خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 7 of 682

خطبات وقف جدید — Page 7

7 حضرت مصلح موعود تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1957ء بمقام ربوہ حضور انور نے فرمایا: اب میں ایک نئے قسم کے وقف کی تحریک کرتا ہوں۔میں نے اس سے پہلے ایک خطبہ جمعہ ( 19 جولائی 1957 ء ) میں بھی اس کا ذکر کیا تھا۔اور اس وقت بہت سے لوگوں نے بغیر تفصیلات سنے اپنے آپ کو پیش کر دیا تھا میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر میں اس نئے وقف کی تفصیلات بیان کر دیں تو ان تفصیلات کو سن کر اگر تم میں ہمت پیدا ہوئی تو پھر تم اپنے آپ کو پیش کر دینا۔میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لیکر کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر۔یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو۔یا دکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اس علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتدا دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔اس سکیم کی تفصیل یہ ہے کہ ہم اس سکیم کے واقف زندگی کو چالیس سے ساٹھ روپیہ تک ماہوار الاؤنس دیں گے جس کے معنے یہ ہیں کہ انتہائی الاؤنس کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی اس سکیم کا خرچ دس معلمین پر صرف 7200 روپے سالا نہ ہوا کریگا۔مگر کچھ امداد ہم زمینداروں سے بھی لیں گے۔اور وہ اس طرح کہ جہاں جماعتیں زیادہ ہوں گی وہاں ہم کوشش کریں گے کہ وہ 110،8 یکر زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں اس مقام پر ہم اپنے نئے واقف زندگی کو ٹھہرائیں گے جو اس زمین میں باغ لگائے گا اور اس باغ میں اپنا مکان بنائے گا اس مکان کے بنانے میں وہ اس علاقہ کے احمدیوں سے کوئی مدد نہیں لے گا۔ہاں مزدوری وغیرہ کی مدد لے گا۔یا پرانے درخت تحفہ کے طور پر قبول کرے گا جن سے چھتیں اور دروازے بن سکیں پھر بعض واقفین کو اگر ممکن ہو سکا تو ہم کمپاؤنڈری بھی سکھا دیں گے اور کچھ رقم دواؤں کے لئے بھی