خطبات وقف جدید — Page 106
106 حضرت خلیفة المسیح الثالث کے لئے ہمیں دو لاکھ یا اس سے زیادہ روپے کی ضرورت ہے۔میں نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے میں ہمارا کام نہیں چلے گا۔ہمیں کم از کم دولا کھ سوا دولاکھ روپے کی ضرورت ہوگی اور اس قد ر تم ہمیں ملنی چاہئے تا وہ عظیم اور نہایت ہی ضروری اور مفید کام جو وقف جدید کے سپر د کیا گیا ہے کماحقہ پورا کیا جا سکے۔پس بجٹ جو مجلس شوری نے پاس کیا تھا اگر چہ وہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں کم از کم دولاکھ روپیہ وصول ہونا چاہئے لیکن اس وقت جو وعدے وصول ہوئے ہیں وہ ایک لاکھ چالیس ہزار روپیہ کے ہیں۔اس لئے ایک تو یہ ہونا چاہئے کہ جو دوست اس تحریک میں حصہ لے رہے ہیں وہ اپنے وعدوں پر دوبارہ غور کریں اور جماعت کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں اضافہ کریں اور پھر دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان وعدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرے وہ دوست جنھوں نے ابھی تک وقف جدید کی مالی تحریک میں حصہ نہیں لیا انھیں اس تحریک کی اہمیت ذہن نشین کرنی چاہئے اور انھیں اس میں شامل ہونا چاہئے۔تیسرے میں آج احمدی بچوں ( لڑکوں اور لڑکیوں) سے اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا اور اس کے رسول کے بچو! اٹھو اور آگے بڑھو اور تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں وقف جدید کے کام میں جو رخنہ پڑ گیا ہے اسے پر کر دو اور اس کمزوری کو دور کر دو جو اس تحریک کے کام میں واقع ہو گئی ہے۔کل سے میں اس مسئلہ پر سوچ رہا تھا۔میرا دل چاہا کہ جس طرح ہماری بہنیں بعض مساجد کی تعمیر کے لئے چندہ جمع کرتی ہیں اور سارا ثواب مردوں سے چھین کر اپنی جھولیوں میں بھر لیتی ہیں۔وہ اپنے باپوں ، اپنے بھائیوں ، اپنے خاوندوں ، اپنے دوسرے رشتہ داروں یا دوسرے احمدی بھائیوں کو اس بات سے محروم کر دیتی ہیں کہ اس مسجد کی تعمیر میں مالی قربانی کر کے ثواب حاصل کر سکیں۔اسی طرح اگر خدا تعالیٰ احمدی بچوں کو توفیق دے تو جماعت احمدیہ کے بچے وقف جدید کا سارا بوجھ اٹھا لیں لیکن چونکہ سال کا بڑا حصہ گزر چکا ہے اور مجھے ابھی اطفال الاحمدیہ کے صحیح اعداد و شمار بھی معلوم نہیں اس لئے میں نے سوچا کہ آج میں اطفال الاحمدیہ سے صرف یہ اپیل کروں کہ اس تحریک میں جتنے روپے کی ضرورت تھی اس میں تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں جو کمی رہ گئی ہے اس کا بار تم اٹھا لو اور پچاس ہزار روپیہ اس تحریک کے لئے جمع کرو۔یہ صحیح ہے کہ بہت سے خاندان ایسے بھی ہیں۔جنکے بچوں کو مہینہ میں ایک لے دو آنے سے زیادہ رقم نہیں ماتی لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ہماری جماعت میں ہزاروں خاندان ایسے بھی ہیں جن کے بچے کم و بیش آٹھ آنے ما ہوار یا شاید اس سے بھی زیادہ رقم ضائع کر دیتے ہیں۔چھوٹا بچہ شوق سے پیسے لے لیتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی قیمت کیا ہے۔وہ پیسے مانگتا ہے اور اس کی ماں یا اس کا باپ اس کے ہاتھ میں پیسہ، آنہ،