خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 105 of 682

خطبات وقف جدید — Page 105

105 حضرت خلیل لمسیح الثالث روح پیدا ہو جائے گی۔لیکن اگر آپ حسب سابق ہر سال اس تعداد میں صرف دس کا ہی اضافہ کریں تو یہ ہمارے لئے کافی نہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ اگلے سال واقفین وقف جدید کی کلاس میں جو جنوری 1967ء سے شروع ہو گی کم از کم ایک سو واقفین ہو جائیں اور جماعت کو چاہئے کہ وہ اس طرف متوجہ ہو۔اساتذہ کی ایک تعداد ہر سال ریٹائر ہوتی ہے اگر وہ خاص طور پر اس طرف توجہ دیں تو وہ بہت مفید ہو سکتے ہیں۔اگر پنشن یافتہ اساتذہ اپنی بقیہ عمر وقف جدید میں وقف کریں تو ہمیں زیادہ اچھے اور تجربہ کار واقفین مل سکتے ہیں بشرطیکہ وہ خلوص نیت رکھنے والے ہوں اپنے اندر قربانی کا مادہ رکھنے والے ہوں۔دنیا کی محبت ان کے دلوں میں سرد ہو چکی ہو۔وہ خدا تعالیٰ کی طرف منہ کر کے اپنی بقیہ زندگی گزارنے کے متمنی اور خواہاں ہوں اور دنیا، شیطان اور دنیوی آرام اور آسائشوں کی طرف پیٹھ کر کے اپنی بقیہ زندگی کے دن گزارنے کے لئے تیار ہوں۔وہ باپ کی طرح تربیت کرنے والے ہوں یعنی محبت ، پیار، اخلاص ، ہمدردی اور غم خواری کے ساتھ تربیت کرنے والے ہوں۔ایسے اساتذہ اگر ہمیں مل جائیں تو ممکن ہے ہم انھیں یہاں ایک سال کی بجائے چند ماہ تعلیم دے کر جماعتوں میں کام کرنے کے لئے بھجواسکیں۔اگر ہمیں واقفین زیادہ تعداد میں مل جائیں اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ جماعت کو یہ توفیق عطا کرے گا کہ جس تعداد میں واقفین کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس تعداد میں واقفین مہیا کر دے تو پھر ان کے خرچ کا سوال پیدا ہو جاتا ہے گذشتہ سال مجلس شوریٰ کے موقع پر وقف جدید کا بجٹ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا منظور ہوا تھا۔لیکن اس وقت تک دفتر وقف جدید میں جو وعدے وصول ہوئے ہیں وہ صرف ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے قریب کے ہیں یعنی وقف جدید کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق بھی ابھی وعدے موصول نہیں ہوئے۔پھر بعض جائز اور نا جائز وجوہ کی بناء پر سارے وعدے عملاً پورے بھی نہیں ہوا کرتے یعنی اتنی رقم وصول نہیں ہوتی جتنی رقم کے وعدے ہوتے ہیں۔سال کے شروع میں ایک شخص خوب کمارہا ہوتا ہے اور اپنی آمد کے مطابق وہ اپنا وعدہ لکھواتا ہے لیکن بعد میں وہ حوادث زمانہ کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔اس کی آمد کم ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے وعدہ کوملتوی کر دے کیونکہ مومن اپنے وعدہ کو منسوخ نہیں کرتا ہاں جب اُسے حالات مجبور کر دیتے ہیں تو وہ اپنے وعدہ کوملتوی کر دیتا ہے۔اس نیت کے ساتھ کہ جب اللہ تعالیٰ اسے توفیق دے گا تو وہ اپنے وعدہ کو ضرور پورا کر دے گا۔ایسے ہی لوگوں کو بعد میں اللہ تعالیٰ توفیق بھی عطا کر دیتا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کر دیں۔لیکن یہاں حال یہ ہے کہ ایک لاکھ ستنتر ہزار روپے کا بجٹ تھا اور وعدے ابھی تک ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کے وصول ہوئے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اس وقت تک صرف پچانوے ہزار روپے کی وصولی ہوئی ہے حالانکہ سالِ رواں میں وقف جدید