خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 611 of 682

خطبات وقف جدید — Page 611

611 حضرت لعليم الي انا ما د الله تعالیٰ بنصرہ العزیز سو گنا تک بڑھا کر بلکہ اس سے بھی زیادہ اجر دیتا ہوں۔پس کسی غم اور کسی خوف کا تو سوال ہی نہیں ہے، ہمیشہ ہر احمدی کو مالی قربانیوں میں آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے محبت اور رسول سے محبت کا تقاضا ہے کہ قربانی میں ہمارے قدم ہمیشہ آگے بڑھتے رہیں۔اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہم شامل ہوئے ہیں تو اس محبت اور اخلاص کا تقاضا ہے کہ اصلاح اور تربیت کے لئے جب مالی قربانی کی ضرورت پڑے تو ہر احمدی ہمیشہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے قربانی میں آگے سے آگے بڑھتا ر ہے۔اسی طرح جو مختلف ملکوں کے نو مبائعین ہیں انہیں بھی یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہماری ضرورتیں باہر کی جماعتیں پوری کریں گی۔ہر جماعت نے اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے تا کہ تربیت و تبلیغ کے دوسرے منصوبوں پر توجہ دی جائے۔جماعت کی ترقی کے دوسرے منصوبوں پر توجہ دی جائے جن کے لئے بہت سے اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔آج کل کے اس ترقی یافتہ دور میں جب ایک طرف ایجادات کی ترقی ہے تو ساتھ ہی اخلاقی گراوٹ کی بھی انتہا ہو چکی ہے۔اپنی نسلوں کو اس سے بچانے اور دنیا کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے اس کام کو سرانجام دینے کے لئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔جس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس وقت محسوس کیا تھا کہ تربیت کی بہت ضرورت ہے، آج کل بھی کافی تعداد کے لئے اور جونو مبائعین آرہے ہیں ان کے لئے جس وسیع پیمانے پر ہمیں منصوبہ بندی کرنی چاہئے وہ ہم نہیں کر سکتے۔اس میں بہت سی وجوہات ہیں اور ایک بڑی وجہ مالی وسائل کی کمی بھی ہے۔گو کہ ہم جتنا کام پھیلاتے ہیں اللہ تعالیٰ کام پورا کرتا ہے۔لیکن جب وہاں تک پہنچتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ اس سے زیادہ بھی کر سکتے تھے۔اگر ہر جگہ معلم بٹھا ئیں اور بہت سارے افریقین ممالک ہیں ، ہندوستان کی بعض جماعتیں ہیں، جہاں بجلی کا انتظام نہیں ہے وہاں بجلی کا انتظام کر کے ایم ٹی اے مہیا کریں جو ایک تربیت کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اسی طرح کی اور منصوبہ بندی کریں تو اس کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے۔جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوشش کرتی ہے کہ کم از کم وسائل کو زیر استعمال لا کر زیادہ سے