خطبات وقف جدید — Page 610
610 حضرت عليها اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز تبلیغ کی تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع " نے 1985ء میں فرمایا تھا کہ اس علاقے میں دوبارہ تشویشناک صورتحال ہے اس لئے ہندوستان کی جماعتوں کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور وسیع منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔اور اخراجات کے لئے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ باہر سے رقم آ جائے گی۔اس لئے پھر جیسا کہ میں نے کہا باہر کی جماعتوں میں بھی وقف جدید کی یہ تحریک جاری کی گئی تاکہ باہر کی جماعتیں بھی اس نیک کام میں ہندوستان کی جماعتوں کی مدد کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے باہر کی جماعتیں اس تحریک میں بھی مالی قربانی کے لئے لبیک کہنے والی بنیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال وقف جدید میں بھی باقی چندوں کی طرح اضافہ ہو رہا ہے۔جوں جوں اللہ تعالیٰ کام میں وسعت دے رہا ہے، جتنا جتنا کام پھیل رہا ہے، اخراجات بڑھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ وسائل بھی مہیا فرما رہا ہے۔لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ جماعت کے بڑی تیزی سے ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہیں اور اس لحاظ سے ضروریات بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فضل فرما رہا ہے۔ضروریات پوری ہوتی ہیں۔لیکن ہمیں اس طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ہم بھی ان مالی قربانیوں میں حصہ لے کر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن سکیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے افراد جماعت پر بھی انفرادی طور پر بہت فضل ہورہے ہیں۔اس لئے ہمیشہ کی طرح اپنی قربانیوں کی طرف بھی خاص توجہ رکھیں تا کہ جو کمزور جماعتیں ہیں ہم ان کی مدد کر سکیں۔ہندوستان کی نئی جماعتیں بھی ہیں اور افریقہ کی جماعتیں بھی ہیں جو بہت معمولی مالی وسعت رکھتی ہیں۔گو کہ قربانی کی کوشش کرتی ہیں لیکن جتنی بھی ان کی وسعت ہے اس کے لحاظ سے، اپنے حالات کے لحاظ سے۔تو ان کی مدد کرنے کے لئے تربیت و تبلیغ کے لئے ، ان کی قربانیوں میں جو کمی رہ گئی ہے، اس کو پورا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اس لئے بیرونی جماعتیں یا ان مغربی ملکوں کی جماعتیں جن کی کرنسی مضبوط ہے، انہیں خدمت دین اور دین کی مدد کے جذبے کے تحت ہمیشہ قدم آگے بڑھاتے چلے جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کرنے والوں کو اپنے فضلوں کو حاصل کرنے والا بتایا ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی اس میں بھی یہی فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رات اور دن اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا جواجر ہے وہ میرے پاس ہے اور جس کو میں نے اجر دینا ہے اس کو اس بات کا خوف بھی نہیں ہونا چاہئے کہ چندے دے کر ہمارا کیا بنے گا، ہماری اور مالی ضروریات ہیں۔یہ خیال بھی تمہیں کبھی نہیں آنا چاہئے کہ مالی قربانیوں سے تمہارے مالوں میں کچھ کی ہوگی۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان لوگوں کو جو میری خاطر قربانیاں دیتے ہیں ،سات