خطبات وقف جدید — Page 596
596 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز زمانہ جو مادیت سے پر زمانہ ہے ہر قدم پر روپے پیسے کا لالچ کھڑا ہے۔ہر کوئی اس فکر میں ہے کس طرح روپیہ پیسہ کمائے چاہے غلط طریقے بھی استعمال کرنے پڑیں کئے جائیں۔پھر کمپنیاں ہیں اور مختلف قسم کے تجارتی ادارے ہیں۔باتوں سے اشتہاروں سے ایسی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح مال بکے اور زیادہ سے زیادہ منافع کما لیا جائے۔ان اشتہاروں وغیرہ پر بھی لاکھوں خرچ ہوتے ہیں۔بچوں تک کو مختلف چیزوں کی طرف راغب کرنے کے لئے ، توجہ پیدا کرنے کے لئے ایسے اشتہار دیئے جاتے ہیں۔ٹی وی وغیرہ پر ایسے اشتہار آتے ہیں، کوشش کی جاتی ہے کہ ماں باپ کو جن کو توفیق ہو بچے مجبور کریں کہ ان کو وہ چیز لے کر دی جائیں۔اور جن میں توفیق نہیں ان میں پھر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔اس بے چینی کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک مادیت کی طرف جھک رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی طرف توجہ کم ہے اور امیر ملکوں میں مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تجارتیں ، یہ خرید و فروخت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہترین تجارت یہ ہے کہ اس کی راہ میں مالی قربانی کرو۔اور اس زمانے میں کیونکہ نئی نئی ایجاد یں بھی ہو گئی ہیں جیسا کہ میں نے کہا ہے اور دنیا ایک ہو جانے کی وجہ سے ترجیحات بھی بدل گئی ہیں تو جہاں جہاں بھی یہ مالی قربانی ہورہی ہے یہ ایک جہاد ہے۔اسی طرح ہمارے ملکوں میں ایک کثیر تعداد ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔افراد جماعت عموماً یا تو مالی لحاظ سے کمزور ہیں یا اوسط درجہ کے ہیں۔تو جب بھی ہم میں سے، جماعت کا کوئی فرد مالی قربانی کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کا اپنی جان کا بھی جہاد کر رہا ہوتا ہے۔بعض اوقات اپنے بچوں کی ضروریات کو بھی پس پشت ڈال کر قربانی کر رہا ہوتا ہے۔اس کی کئی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی روایات میں آتی ہیں اور آج کل بھی موجود ہیں۔اور اللہ تعالیٰ سے فضل سے مالی قربانی کرنے کی یہ مثالیں سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نہیں ملیں گی۔حضرت مسیح موعود کے زمانے کی بات ہے قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے ایک روایت کی ہے کہ وزیر آباد کے شیخ خاندان کا ایک نوجوان فوت ہو گیا۔اس کے والد نے اس کے کفن دفن کے لئے 200 روپے رکھے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر خانے کے اخراجات کے لئے تحریک فرمائی۔ان کو بھی خط گیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رقم بھجوانے کے بعد لکھا کہ میرا نو جوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے میں نے اس کی تجہیز وتدفین کے واسطے مبلغ دوسوروپے تجویز کئے تھے جوار سال خدمت کرتا ہوں اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کرتا ہوں۔) رسالہ ظہور احمد موعود۔قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی قاضی خیل۔صفحہ 70-71 مطبوعہ 30 جنوری 1955ء)