خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 595 of 682

خطبات وقف جدید — Page 595

595 حضرت خلیة المسح الامس ایه الله: س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رہے، اپنے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے رہے تو پھر یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک سال یا دو سال یا تین سال کی بات نہیں ہے بلکہ ان باتوں کی طرف توجہ اور ان امور کی انجام دہی کے بعد پھر تم ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کے مقرب بن جاؤ گے۔ہر سال تمہارے لئے برکتیں لے کر آئے گا اور ہر گزشتہ سال تمہارے لئے برکتوں سے بھری جھولیاں چھوڑ کر جائے گا۔اور پھر یہ اعمال جو ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان نعمتوں کا وارث بنائیں گے۔ہر سال جنوری کے پہلے جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے مالی قربانی کے بارے میں مختصراً کچھ بتاؤں گا اور پھر گزشتہ سال تحریک وقف جدید کے ذریعے ہونے والی مالی قربانیوں کا ذکر ہوگا اور نئے مالی سال کا اعلان بھی۔مالی قربانی اصلاح نفس اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مختلف پیرایوں میں اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔پس جماعت احمدیہ میں جو مختلف مالی قربانی کی تحریکات ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور دلوں کو پاک کرنے کی کڑیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ۔۔۔۔۔وَمَالَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ (الحديد:11) اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔پس اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے لئے مالی قربانیوں میں حصہ لینا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ بھی تنبیہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔جیسے کہ فرماتا ہے۔وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمُ إِلى التَّهْلُكَةِ (البقرة:196)۔اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔پس جیسا کہ میں نے کہا یہ مالی تحریکات جو جماعت میں ہوتی ہیں، یا لازمی چندوں کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے یہ سب خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہیں۔پس ہر احمدی کو اگر وہ اپنے آپ کو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے ، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی ایک بہت بڑی جماعت اس قربانی میں حصہ لیتی ہے لیکن ابھی بھی ہر جگہ بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی حکم فرمایا ہے کہ اگر آخرت کے عذاب سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کے وارث بننا ہے تو مال و جان کی قربانی کرو۔اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر تلوار کا جہاد ختم کر دیا تو یہ مالی قربانیوں کا جہادی ہے جس کو کرنے سے تم اپنے نفس کا بھی اور اپنی جانوں کا بھی جہاد کر رہے ہوتے ہو۔یہ