خطبات وقف جدید — Page 553
553 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اور قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجالا وے۔مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کو تا ہی نہیں چاہیے۔دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔رسول کریم ہی ہے، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 358) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 5 جولائی 1903ءکو اپنی مجلس میں مزید فرمایا۔بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا کروں گا۔اور نا واقف لوگوں کو یہ بھی سمجھایا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ؟ نہایت درجہ کا بخیل اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کیلئے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے۔ایک ایک قطرے سے دریا بن جاتا ہے۔اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے اس سلسلہ کے لئے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کیلئے اسی طرح سے نکالا کرے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 360 ، 361) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں۔مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانے میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔پیغمبر خدا نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہیے اور آپ کی منش تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 361) حضرت ابو بکر نے گھر کا سارا مال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جا کر پیش کر دیا۔حضرت عمرؓ نے آدھا مال آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی فرق ان دونوں کے مراتب میں ہے ابو بکر کا مرتبہ عمر کے مقابل پر اتنا زیادہ ہے جس طرح مال کی قربانی کا مرتبہ ہے۔