خطبات وقف جدید — Page 530
530 حضرت خلیفہ المسح الرابع جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے زرق میں برکت دیتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 360) اب یہ کثرت کے ساتھ نو مبائعین کا دور ہے اور ہم پوری توجہ کر رہے ہیں کہ ہر نو مبائع بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈالے اور امید رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ یہ تحریک کامیاب ہو گی۔ابھی تک تو اس کے بہت اچھے نتائج نکل رہے ہیں اور کثرت سے نو مبائعین خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت ڈال رہے ہیں اور وقف جدید کی راہ میں بھی ان نئے آنے والوں کو بکثرت شامل ہونے کی توفیق مل رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ آخری اقتباس میں نے رکھا ہے۔”اے عقلمندو! خدا کے راضی کرنے کا یہ وقت ہے کہ پھر نہیں ملے گا۔۔۔۔خدا کی راہ میں صدق دل سے خدمت کے لئے حاضر ہو جانا ایک ایسا مبارک امر ہے جو درحقیقت اور تمام مشکلات اور آفات کا علاج ہے۔پس جس کو یقین ہے کہ خدا برحق ہے اور دین و دنیا میں اس کی عنایات کی حاجت ہے اس کو چاہئے کہ اس مبارک موقع کو ہاتھ سے نہ دے اور بخل کے دق میں مبتلا ہو کر اس ثواب سے محروم نہ رہے۔اس عالمی سلسلہ میں داخل ہونے کے لئے وہی لائق ہے جو ہمت بھی عالی رکھتا ہو اور نیز آئندہ کے لئے ایک تازہ اور سچا عہد خدا تعالیٰ سے کر لے کہ وہ حتی الوسع بلا ناغہ ہر ایک مہینہ میں اپنی مالی امداد سے ان دینی مشکلات کے رفع کرنے کے لئے سعی کرتا رہے گا“۔( مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 314 315 اشتہار 4 اکتوبر 1899 ء) اب میں وقف جدید کے نئے سال کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔اس سلسلہ میں جو چندا مور آپ کے سامنے رکھنے کے لئے چنے ہیں لمبی فہرست میں سے اس کو مختصر کر کے آپکے سامنے رکھا جا رہا ہے کیونکہ اعداد و شمار کی بحث میں عموماً لوگ زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ وہ ان کو پوری طرح سمجھ نہیں آ سکتے اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ ہر دفعہ کے اعداد و شمار ایسے آسان طریقے پر بیان ہوں کہ سب کو ان کی سمجھ آ سکے۔مختصر تعارف یہ ہے کہ وقف جدید کا آغاز 27 دسمبر 1957ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا اور مجیب اتفاق ہے کہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالی عنہ نے خود مجھے بلا کر یہ بات سمجھائی کہ میں نے پہلا نام تمہارا رکھا ہے۔اس کی حکمت اس وقت تو مجھے سمجھ نہیں آسکی کیونکہ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر بھی ہمارے وقف جدید کے صدر رہے ہیں ان کا نام دو پہ رکھنے کی کیا حکمت تھی شاید یہ مراد ہو کہ میرا وقف جدید سے گہرا تعلق ہونا تھا اور وقف جدید کے سلسلے میں جتنے دورے