خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 394 of 682

خطبات وقف جدید — Page 394

394 حضرت خلیفہ امسیح الرابع نصائح کے اثر کے نتیجہ میں اصحاب الصفہ کے متعلق آتا ہے کہ یہ جنگلوں میں لکڑیاں کاٹنے کیلئے چلے جایا کرتے تھے اور جنگلوں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور وہاں بیچ کر جو کچھ ملتا خود غربت کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔تو اسلئے یہ خیال کہ باہر کا ماحول ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یہ درست نہیں الله ہے۔ان پر کچھ اور قیود تھیں اور وہ قیود حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کی قیود تھیں۔یہ آنحضرت ﷺ کا دامن چھوڑ کر باہر جانا نہیں چاہتے تھے۔بعض روایات میں آتا ہے کہ ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا الله نہیں۔ہم تو یہیں رہیں گے۔اسی مسجد میں رہیں گے۔ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ یا رسول اللہ ان کو حکم دیں کہ یہ بھی باہر نکل کر کام کریں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ان کا حال معلوم نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ سے سوال کیا گیا کہ تم کیوں نہیں باہر نکلتے تو انہوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میری بہت سی عمر عمر کا ایک بڑا حصہ جہالت میں ضائع ہو گیا۔اب زندگی کے باقی دن ہیں میں نہیں چاہتا کہ ایک لمحہ بھی ایسا آئے کہ آنحضرت ﷺ باہر تشریف لائیں اور میں دیکھ نہ سکوں یا آپ کی باتیں نہ سن سکوں۔تو یہ محبت کے قیدی تھے اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سے مراد یہ ہے کہ بہت اعلیٰ مقصد کے لئے اللہ کی راہ میں خود قیدی بن کر بیٹھ رہے تھے ورنہ جس طرح مدینہ میں بسنے والے باقی انصار اور مہاجرین کے لئے زمین کھلی تھی وہ اپنی کمائی کی خاطر جب چاہیں جہاں چاہیں جاسکتے تھے۔اس طرح ان پر بھی تو کوئی قید نہیں تھی۔یہ جو مضمون ہے یہ اس زمانہ میں خصوصیت کے ساتھ قادیان کے احمدی باشندوں پر صادق آتا ہے ان کے متعلق بھی جو مضمون میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ غربت اور تنگی اور مشکلات کا دور گزرا ہے۔یہ جسمانی قید تو کوئی نہیں تھی کہ جس کے نتیجہ میں وہ ان مشکلات کے دور میں سے گزرے اور آج تک گزر رہے ہیں۔بلکہ محض ایک اعلیٰ مقصد کی خاطر خود اپنے آپ کو انہوں نے محصور کر رکھا ہے۔اور وہ مقامات مقدسہ کی حفاظت ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دار کی حفاظت ہے اور قادیان کی مقدس بستی کو ہمیشہ آباد در کھنے کا عزم ہے۔پس ایک اصحاب الصفہ وہ تھے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں تھے کچھ وہ تھے جو مدینہ میں بستے تھے۔محمد رسول اللہ ان کو پہچانتے تھے اور باقی سب کو دکھائی نہیں بھی دیتے تھے کیونکہ وہ سائل نہیں تھے مانگنے کے عادی نہیں تھے عزت دار لوگ تھے۔اور ایک وہ بھی ہیں جو آخرین میں پیدا ہوئے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں پیدا ہوئے۔اور اصحاب الصفہ خاص طور پر آج قادیان میں بسنے والے درویش ہیں۔درویش کی اصطلاح تو اب انہوں نے ان لوگوں کے لئے مخصوص کر لی ہے جو قادیان سے ہجرت کے دوران وہاں ٹھہرے تھے لیکن میں جب درویش کہتا ہوں تو مراد یہ ہے کہ وہ سارے