خطبات وقف جدید — Page 385
385 حضرت خلیفتہ المسح الرابع کر کے واپس لوٹا نا اس نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہے۔وہ کیسے یہ کام کرتا ہے ہم ان اسرار کو نہیں جانتے مگر روز مرہ کی زندگی میں ان کاموں کو ہوتا ہوا دیکھتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اخلاص کے اعلیٰ معیار پر قائم ہیں ان کیلئے اللہ تعالیٰ نے کوئی حد قائم نہیں فرمائی۔فرمایا: پھر جسے وہ چاہے اسے جتنا چاہے بڑھا کر دیتا چلا جائے اسکی کوئی حد نہیں ہے۔تو پہلے تو یہ دیکھیں کہ خدا کے معاملے میں کنجوسی کرنا کوئی عقل کا سودا ہے؟ کوئی نفع کا سودا ہے یا گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ تعالیٰ بہت ہی حلیم ہے اور ضروری نہیں کہ ہر کنجوسی کرنے والے کو اسکی کنجوسی کی فور سزا دے۔وہ مستغنی بھی ہے۔وہ بعض دفعہ پر واہ بھی نہیں کرتا اور خصوصاً ان لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا جن سے توقعات نہ ہوں۔پس خدا کی طرف سے اس معاملہ میں پکڑ کا نہ آنا ایک خطر ناک علامت ہے۔میرا ساری زندگی کا تجربہ ہے کہ نیک لوگوں پر غفلت کے نتیجہ میں احساس دلانے والی پکڑ ضرور جلد ہی آیا کرتی ہے۔خدا کی پکڑ کی صرف ایک ہی قسم نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی عقوبت کی بھی اور پکڑ کی بھی بہت سی قسمیں ہیں۔بعض دفعہ پکڑا ایسی ہوتی ہے جو صرف احساس دلانے کیلئے ہوتی ہے کہ ہیں ہیں ! تم سے یہ توقع نہیں تھی۔یہ کام نہیں کرنا ورنہ میں غالب ہوں۔مجھ سے بھاگ کر تم الگ نہیں جاسکتے۔یہ ایک ایسی پکڑ ہے جسے مومن اور مخلص مومن ہی جانتا ہے۔غیروں کو اندازہ ہی نہیں کہ یہ کیا چیز ہوتی ہے۔اس کا نام ابتلاء نہیں ہے اس کا نام سوائے محبت کی دنیا کے کسی اور دنیا کو معلوم ہی نہیں ہوسکتا۔ایک ماں جو اپنے بیٹے سے محبت رکھتی ہے اور اعلی توقع رکھتی ہے جب وہ غفلت کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ اسے سزا دے۔لیکن اسکی آنکھ میں ہلکی سی جو مایوسی ظاہر ہوتی ہے وہی اس پیارے بچے کے لئے سزا بن جاتی ہے۔اگر نسبتا کم لطیف مزاج کا بچہ ہو تو اس کے لئے اظہار ناراضگی یا اظہار مایوسی ذرا اور رنگ میں ظاہر ہوگا۔نسبتا زیادہ کھل کر ظاہر ہوگا۔مگر وہ بھی عام دنیاوی معنوں میں عقوبت یا سزا نہیں کہلاتی۔وہ محض ایک یاد دہانی ہے۔پس میرا تجربہ ہے کہ خدا تعالٰی مومنوں کو جن سے توقعات رکھتا ہے جن کو آگے بڑھانا چاہتا ہے ان کی بعض ایسی غفلتوں پر ضرور پکڑتا ہے اور جلدی پکڑتا ہے۔اور اس پکڑ کا نتیجہ انکی اصلاح ہوتی ہے اور ان کے اور خدا کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ تجربے کے بعد جان لیتے ہیں ، خوب اچھی طرح پہچان لیتے ہیں کہ خدا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔جہاں ہم نے غلطی کی ہم اپنی غلطی میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ہم اپنے غلط مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔پس وہ خوش نصیب ہیں جو غفلت کے نتیجہ میں ان معنوں میں پکڑے جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اپنے حال پر تو راضی ہو جائیں جن کی تجوریاں بھرتی رہیں ، جن کے رزقوں میں ترقی ہوتی چلی جائے وہ یہ مجھے لگیں کہ خدا ہم سے تو راضی ہے اگر ہم اس کے حضور پیش کرنے میں کمی بھی دکھاتے ہیں تو اس نے کبھی بھی ناراضگی کا ظاہری اظہار نہیں کیا۔یہ بہت بڑی بیوقوفی ہے۔خدا استغنی ہے۔وہ عطاء