خطبات وقف جدید — Page 377
377 حضرت خلیفہ المسح الرابع اور جہاں ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کرو۔میں سمجھتا ہوں کہ آج ایسا ہی وقت ہے کہ ہمیں تعلیم کے لمبے جھگڑوں کو نظر انداز کرنا ہوگا اور جب تم یہ کہتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں معا وقف جدید کے معلمین کی دو شکلیں سامنے آتی ہیں۔اول وہ جو محض تبلیغ حق کیلئے تبلیغ ہدایت کیلئے دنیا میں نکل کھڑے ہوں اور ان کی تعلیم خواہ کیسی بھی کیوں نہ ہو وہ تقویٰ کے زیور سے آراستہ ہوں ، تقویٰ کا زادِ راہ رکھتے ہوں تو ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا کے فضل سے ان کی تبلیغ کو بہت پھل لگیں گے۔ایک دوسری نوع کے معلمین وہ ہوں گے جن کو لا ز ما کم سے کم بنیادی تعلیم دینی ہوگی۔کیونکہ ان کا زیادہ تر کام جماعتوں کی تربیت ہوگا۔پس دو قسم کے معلمین کی ہمیں اس وقت ہندوستان میں شدید ضرورت ہے۔ایک وہ جو پیغام حق پہنچا ئیں خواہ کسی تعلیم کے ہوں۔کسی طبقہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔شرط صرف یہ ہے کہ وقف کی روح رکھتے ہوں، ایک ولولہ رکھتے ہوں، ایک جوش رکھتے ہوں کہ آج میدان خدمت نے ہمیں آواز دی ہے ہم ضرور لبیک کہیں گے۔اس جذبہ کے ساتھ وہ میدان میں نکل کھڑے ہوں اور ہر میدان کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سرکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرے معلمین تربیت کی خاطر تیار ہونے ضروری ہیں۔اور انہیں کچھ علمی ہتھیار سے مرصع کرنا اس لئے ضروری ہے کہ بعض اوقات بعض علماء ان جگہوں پر جہاں جماعت احمد یہ ترقی کر رہی ہے اپنے لاؤلشکر کے ساتھ جا پہنچتے ہیں اور چیلنج دیتے ہیں کہ آؤ ہم سے علمی مقابلہ کرو، ایسی صورت میں اگر وہاں نہیں تو قرب وجوار میں ضرور ایسے معلم مہیا ہونے چاہئیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ علمی میدان میں بھی ان کو شکست دے یمیں۔ہندوستان میں ضروریات اس تیزی سے بڑھ رہی ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی جماعتوں سے شاید اتنے احباب نہ مل سکیں۔اس ضرورت کے پیش نظر میں نے قادیان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ہندوستان کی حکومت سے درخواست کریں کہ جس طرح دوسرے ممالک میں جماعت احمدیہ کو اپنے مبلغین بھجوانے کی اجازت ہوتی ہے اس طرح ہندوستان بھی ہمیں باہر سے مبلغین بھجوانے کی اجازت دے۔اس سلسلہ میں گفت و شنیدا بھی کسی آخری مرحلے پر نہیں پہنچی لیکن اگر ہندوستان کی حکومت وسیع حوصلہ دکھائے اور جیسا کہ دنیا کے تمام ممالک خدمت دین کرنے کیلئے آنے والوں کی درخواستوں پر ہمدردی سے غور کرتے ہیں اور انہیں اجازت دیتے ہیں جیسے ہندوستان میں کثرت سے یورپ اور امریکہ سے عیسائی مبلغ اور مناد پہنچتے رہے اور آج بھی شاید ان کو اجازت دی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان مبلغین کو جو خالصہ اللہ کی خاطر قربانی کرتے ہوئے امن کو پھیلانے کے لئے ، خدا کی محبت کو فروغ دینے کیلئے سچائی کا پیغام