خطبات وقف جدید — Page 376
376 حضرت خلیفہ مسیح الرابع پس آج جب میں اس خطبہ کے لئے آرہا تھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ بھی شاید اللہ کی کسی تقدیر کے نتیجہ میں تھا کہ وقف جدید کی مجلس میں حضرت مصلح موعودؓ نے جو پہلا نام اپنے ہاتھ سے لکھا تو وقف جدید کے 34 سال کے بعد لیکن تقسیم کے بعد خلیفہ وقت کے تعلق سے یہاں خطبات کا جو انقطاع ہوا تھا،اسکے 45 سال کے بعد آج قادیان میں ہونے والے پہلے جلسہ سالانہ کے جمعہ میں مجھے ہی وقف جدید کے نئے سال کے اعلان کی توفیق مل رہی ہے۔ہندوستان میں وقف جدید کی تحریک کچھ کمزور حالت میں پائی جاتی تھی۔کیونکہ وقف جدید کے چندے کی طرف ہندوستان کی جماعتوں میں دلچسپی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ابھی تک وہ کمزوری جاری ہے اور بمشکل پانچ لاکھ کے قریب یا کم و بیش اتنی ہی وصولی ہوتی ہے حالانکہ ہندوستان میں وقف جدید کی غیر معمولی اہمیت سمجھی جانی چاہیے۔یہ وہ تحریک ہے جس کے ذریعہ تمام ہندوستان کے علاقوں میں کم سے کم خرچ پر جماعت احمدیہ کا مؤثر رنگ میں پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں جو نقشہ تھا وہ کچھ اسی قسم کا تھا جیسا کہ میں نے اپنی کل کی تقریر میں ذکر کیا تھا کہ کچھ درویش صفت لوگ جن کی ضروریات زیادہ نہ ہوں ، خدا کے نام پر کسی ایک جگہ جا کر بیٹھ رہیں اور وہاں دھونی رمالیں اور اردگرد اصلاح وارشاد کا کام کریں اور جماعتیں ہوں تو وہاں ان کی تربیت کا کام بھی سنبھالیں۔یہ وہ طریق کار ہے جس کے ذریعہ ہم آسانی کے ساتھ ملک کے گوشے گوشے میں تبلیغ ہدایت کا سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ہندوستان میں جماعت کی عمومی تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ اگر ہم بڑے بڑے علماء تیار کر کے ہندوستان کو پیغام دینا چاہیں تو اس کے لئے بہت لمبے انتظار کی ضرورت ہوگی۔وقف جدید کی طرف سے اگر چہ ہم معلمین کو با قاعدہ تعلیم بھی دیتے ہیں لیکن اس جدید تحریک کی روایات یہ ہیں کہ اگر ضرورت پیش آئے تو تعلیم کے فقدان کی پرواہ نہ کی جائے اخلاص کو دیکھا جائے اور اگر واقعہ کوئی معمولی تعلیم والا شخص بھی اخلاص میں بڑھا ہوا ہو، تقویٰ کے لحاظ سے اس کا معیار اونچا ہوتو اس کو بھی وقف جدید میں شامل کر لیا جائے۔شروع میں یہی طریق تھا لیکن رفتہ رفتہ پھر معیار تعلیم کو بڑھایا جانے لگا اور وقف جدید میں داخلہ کیلئے کم سے کم میٹرک کو معیار قرار دیا گیا۔رفتہ رفتہ تعلیم میں اور بھی اضافے ہوئے اور اب پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ خدا کے فضل سے جتنے بھی معلمین ہیں ان کی ٹھوس تعلیم کا اگر مکمل نہیں تو کسی حد تک انتظام کیا جاتا ہے۔یہی صورت اس وقت ہندوستان میں رائج ہے لیکن آغاز میں وقف جدید کی جو روح تھی وہ وہی تھی جس کو میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ اگر وقت کا تقاضا ہو تو تعلیم کو بے شک نظر انداز کر دو۔اخلاص اور تقویٰ کو پیش نظر رکھتے ہوئے واقفین کا انتخاب کرو۔