خطبات وقف جدید — Page 29
29 حضرت مصلح موعود میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صد سالہ جو بلی بھول گئی۔اب بھی وقت ہے کہ جماعت اس طرف توجہ کرے۔100 سال کی جو بلی بڑی جو بلی ہوتی ہے جب جماعت کو وہ دن دیکھنے کا موقع ملے تو اس کا فرض ہے کہ وہ یہ جوبلی منائے۔اب تک انھوں نے 76 سال کا عرصہ دیکھا ہے اور 24 سال کے بعد 100 سال کا زمانہ پورا ہو جائے گا۔اس وقت جماعت کا فرض ہوگا کہ ایک عظیم الشان جوبلی منائے۔اس سوسال کے عرصہ میں سارے پاکستان کو خواہ وہ مغربی ہو یا مشرقی۔ہم نے احمدی بناتا ہے۔اس کے بعد جو لوگ زندہ رہیں گے وہ انشاء اللہ وہ دن بھی دیکھ لیں گے جب ساری دنیا میں احمدی ہی احمدی ہونگے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں وہ رفتہ رفتہ اس قدر کم ہو جائیں گے کہ ان کی حیثیت بالکل ادنی اقوام کی سی ہو جائے گی۔پس ہمت سے آگے بڑھو زیادہ سے زیادہ چندے لکھواؤ۔اور جولوگ آنریری سیکریٹری کے طور پر کام کر سکتے ہوں وہ اپنے آپ کو آنریری سیکریٹری بنالیں اور شہر میں یا باہر جہاں کہیں جائیں وہاں احمد یوں سے مل کر یا غیر جواثر قبول کریں ان سے مل کر زیادہ سے زیادہ چندہ لینے کی کوشش کریں تا کہ ہما را چندہ جلدی جلدی 12 لاکھ تک پہنچ جائے۔اسی طرح نو جوانوں کو وقف زندگی کی تحریک کریں۔یہ ایسا چھوٹا وقف ہے کہ پرائمری تک کے آدمی کو بھی ہم لے لیتے ہیں۔ہم جو مرکز بنائیں گے اور پھر اسے قائم کریں گے وہاں ہم ایک زیادہ تعلیم یافتہ شخص رکھ لیں گے اور اس کے ساتھ پرائمری پاس شخص کو لگا دیں گے اور تعلیم اردو میں دیں گے۔اردو زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کئی کتا بیں ہیں۔مثلاً در مشین ہے، تحفہ گولڑویہ ہے، سرمہ چشم آریہ ہے، براہین احمدیہ حصہ پنجم ہے، ازالہ اوہام ہے، فتح اسلام ہے۔یہ کتا بیں ان کو پڑھائیں گے۔میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ ان کتابوں کو پڑھ لیتے ہیں وہ بڑے سے بڑے مولویوں کے اعتراضات کے ایسے جواب دے سکتے ہیں کہ وہ بول نہیں سکتے۔اسی طرح ہم تفسیر صغیر پڑھائیں گے۔پھر جب کچھ قابلیت بڑھ جائے تو وہ سیر روحانی پڑھیں ، احمدیت ، دعوت الامیر، تحفتہ الملوک اور تحفہ شہزادہ ویلز پڑھیں۔ان ساری کتابوں کو پڑھ لیا جائے تو عیسائیوں کا اور مسلمانوں میں سے غلط رستہ پر چلنے والے مولویوں کے اعتراضات کا بڑی عمدگی سے ازالہ کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح دیبا چہ تفسیر القرآن ہے اس کے متعلق تمام مبلغ لکھتے ہیں کہ اس کو ہم ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم ہر علمی مجلس میں غالب آتے ہیں۔ان سب کتابوں کو غور سے پڑھ لیا جائے تو بڑی علمی قابلیت پیدا ہوسکتی ہے۔اب تو یہاں پادری زیادہ تعداد میں نہیں۔زیادہ تر اپنے ممالک کو واپس چلے گئے ہیں۔تھوڑے سے پادری موجود ہیں جن کے لئے ان کتابوں سے بہت حد تک علم سیکھا جا سکتا ہے یا ہندوستان جانے کا موقعہ ملے تو وہاں پنڈت موجود