خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 299 of 682

خطبات وقف جدید — Page 299

299 حضرت خلیفہ امسیح الرابع توفیق بھی بڑھا دیتا ہے اور پھر وہ توفیق ہر جہت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔اور تھر پارکر ہی کو اس دفعہ سب سے زیادہ وقف جدید کی ضرورت بھی ہے۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر وقف جدید کا کام ہورہا ہے اور جہاں ہندو زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔بیرونی دنیا سے بھی انکی مدد ہو تو یہ بہت اچھا اقدام ہو گا۔اس میں برکت پڑے گی اور سلسلے کی ساری ضرورتیں بسہولت پوری ہو جائیں گی۔انشاء اللہ۔اس تحریک کیسا تھ میں نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔اس اعلان کیساتھ میں اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعت کی دیگر مالی ذمہ داریوں پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہیے۔اس شرط کیساتھ یہ تحریک کی جارہی ہے کہ کسی جگہ سے یہ شکوہ نہیں آنا چاہیے کہ آپ نے ایک اور تحریک کر دی تھی اسلئے ہمارے فلاں چندے میں کسی قسم کی کمی آگئی ہے یا Diversion (ایک خاص سمت میں توجہ زیادہ ) ہوگئی یا کسی اور طرف اس کے نتیجے میں کمی آگئی ہے۔ہر چندے میں ہر پہلو سے ہر سال ہمارا قدم خدا کے فضل سے آگے بڑھنا چاہیے اور یہ تحریک بھی اگر آپ اس روح کے ساتھ جاری کریں گے اور اس روح کیساتھ اپنائیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان میں آپ کے اخلاص میں برکت ہی نہیں ڈالے گا بلکہ آپکی مالی وسعتیں بھی بڑھائے گا اور آپ پہلے سے زیادہ بہتر حال میں اپنے آپ کو پائیں گے۔خدا کی راہ میں خرچ کرتے وقت خوف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔بیوی بچوں کا حق ضرور رکھنا چاہیے۔آنحضرت نے ایسی قربانی سے منع فرمایا ہے جس سے اہل و عیال کا حق مارا جائے اور ان کے دل میں رد عمل اس کے خلاف پیدا ہو جائے۔اس حد تک قربانی سے آنحضرت ﷺ نے اجتناب کا حکم فرمایا ہے بعض دفعہ یہ کہہ کر چندے واپس کئے کہ تم اپنے بیوی بچوں کو غریب چھوڑنا چاہتے ہو۔اور انہیں اس حال میں چھوڑنا چاہتے ہو کہ وہ اپنے دین سے پھر جائیں یہ نہیں ہو گا۔اس لئے عفو کے دائرے میں رہیں جو قرآن کریم کی کھلی تعلیم ہے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تو ان کو جواب دے کہ عفو خرچ کرو۔عفو سے مراد یہ ہے کہ اپنی بنیادی ضرورتوں سے جو زائد ہے اس میں سے جتنا چاہو دو۔بنیادی ضرورتیں نہ کاٹو سوائے اس کہ بعض مواقع پر دین کی بنیادی ضرورتیں تقاضا کرتی ہیں ایسی صورت میں تو پھر سب کچھ پیش کرنے کا حکم ہو جایا کرتا ہے۔لیکن وہ امتیازی حالات ہیں۔وقف جدید کے چندے میں زیادہ سے زیادہ شمولیت اختیار کریں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ نہ دیگر چندے متاثر ہوں نہ بنیادی ضرورتوں پر اثر پڑے جہاں تک بھی ممکن ہے زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور کوشش کریں کہ عفو کا ایک بڑا دور اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش ہو یعنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ خدا کی راہ میں پیش کریں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر آن آگے کی طرف بڑھاتا چلا جائے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت