خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 259 of 682

خطبات وقف جدید — Page 259

259 حضرت خلیلتہ امسیح الرابع بات ضروری ہے کہ معلمین کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔بعض علاقوں میں ہندؤوں کا کثرت سے اسلام کی طرف رجحان پایا جاتا ہے اور وہاں خاص وقف کی روح کے ساتھ آگے بڑھنے والے واقفین کی ضرورت صلى الله۔ہے ہمارے رہن سہن سے ان کا رہن سہن مختلف ہے۔ہمارے حالات اور موسموں سے ان علاقوں کا رہن سہن اور موسم مختلف ہیں۔اور خاصی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ تو وہاں کا پانی اتنا گندا اور کسیلا اور دل کو متلا دینے والا ملتا ہے کہ وہ پانی پینا ہی ایک بہت بڑی قربانی ہے۔پھر اس علاقے میں سانپ اور بچھو بھی ہیں۔خوراک کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔بعض دفعہ کئی کئی ماہ تک بارش نہیں ہوتی۔تو اسکی وجہ سے پانی اور بھی زیادہ گہرا چلا جاتا ہے اور مہنگاملتا ہے اسلئے بہت قیمت دے کر پانی لینا پڑتا ہے۔تو ان حالات میں وقف جدید کے معلمین محض اللہ اسلام کی بہت بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔اور خدا کے فضل سے اس وقت تک دوسو سے اوپر گاؤں ایسے ہیں جہاں اسلام داخل ہو گیا ہے۔اس سے پہلے وہاں اسلام کا نام ونشان نہیں تھا۔جہاں پہلے بت پرستی ہوتی تھی اب وہاں خدائے واحد کی عبادت ہونے لگی ہے۔جہاں پہلے آنحضرت یہ سے کدورت پائی جاتی تھی وہاں اب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا نام لیتے ہوئے اور آپ پر درود بھیجتے ہوئے ان لوگوں کی آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں۔پس یہ بہت عظیم الشان خدمت ہے جو وقف جدید نے سرانجام دی ہے اور دے رہی ہے۔اسکے لئے صرف روپیہ کافی نہیں بلکہ وقف کی روح رکھنے والے واقفین کی بہت ضرورت ہے۔اسی طرح وقف عارضی والے بھی ایسے دوست چاہئیں جو کسی نہ کسی فن میں مہارت رکھتے ہوں اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہوں اور غریبوں کی ہمدردی رکھتے ہوں۔ڈاکٹر ہیں اور مختلف قسم کے تاجر ہیں۔وہ موقع پر جائیں اور دیکھیں کہ ان لوگوں کی کیا مدد ہوسکتی ہے اور کس طرح ان کی دلداری کی جاسکتی ہے۔اور مُؤلَّفَةُ الْقُلُوبِ کے حکم کی پیروی میں ان کے دلوں کی تالیف کے نئے رستے کونسے ڈھونڈے جاسکتے ہیں۔کراچی کے کچھ دوستوں نے دو چار سال پہلے عارضی وقف کیا تھا۔ان میں بعض سابق حج بھی تھے، بعض ڈاکٹر بھی تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے دورے کا بہت ہی اچھا اثر پڑا۔ان لوگوں میں نیا حوصلہ پیدا ہوا۔وہ حیران ہوئے کہ دنیا کے لحاظ سے اتنے بڑے بڑے مقام رکھنے والے لوگ ان سے کس طرح محبت کا سلوک کر رہے ہیں۔ان کے برتنوں میں پانی پیتے ہیں جبکہ باقی دنیا ان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔پس اسلام کی خدمت کے لئے یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔وقف عارضی کے لحاظ سے بھی یہ مسئلہ مزید توجہ کا متقاضی ہے۔اسلئے میں امید رکھتا ہوں کہ جو واقفین اپنے خرچ پر تنگی ترشی سے گزارا کرتے ہوئے اور مخالف حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے وہاں خدمت سرانجام دینا چاہیں وہ یہ کہہ کر وقف کریں کہ