خطبات وقف جدید — Page 225
225 حضرت خلیفة المسیح الثالث ہو جائے تو پھر گیارہ سو ہونے چاہئیں۔جب دو ہزار بن جائے تو دو ہزار بننے چاہئیں جب ایک لاکھ بن جائے تو ایک لاکھ معلم ہونا چاہیے آپ کے پاس۔اس وقت کے پیش نظر میں نے ایک آنریری معلم عام کی اصطلاح وضع کر کے کام شروع کروایا تھا لیکن اس کے اندر بعض قباحتیں بھی پیدا ہو گئیں اور ضرورت بھی پوری نہیں ہوئی۔اس واسطے آج میں یہ اعلان بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جن کو ہم اعزازی معلم کہتے رہے ہیں ان کو آئندہ سے اعزازی معلم نہیں کہیں گے۔بلکہ معلم درجہ دوئم ان کو ہم کہیں گے۔معلم درجہ اول اور معلم درجہ دوم ان کا ہوگا۔لیکن اس کی طرف جماعت نے توجہ نہیں کی۔میں نے یہ کہا تھا کہ معلمین کا کافی تعداد میں فوری طور پر حاصل ہونا قریباً ناممکن ہے اس واسطے جو پرانا طریقہ تھا شروع اسلام میں رائج ہوا کہ ہر علاقے سے علاقے کو سنبھالنے کیلئے اور ہر شہر اور قصبہ سے اس کو سنبھالنے کے لئے آدمی ملیں اسی سے یہ نتیجہ عقل نکالتی ہے اس شہر اور قصبہ کو سنبھالنے کیلئے آدمی آنے چاہئیں تا کہ تفقہ فی الدین حاصل کریں اور جو کام معلم کا ہے وہ جا کے کریں۔یہاں ان کا تین مہینے کا غالبا نصاب تھا لیکن کتابی نصاب کی طرف توجہ دی گئی اور خود انکی اپنی تربیت اور ان کے اپنے مزاج کو بدل دینے کیلئے کوشش نہیں کی گئی۔جو آتا ہے جس کو درجہ دوم کا اب ہم معلم کہیں گے وہ اس کی ذہنیت ایک معلم کی ہونی چاہیے۔وہ اتنخواہ نہیں ہے وہ جا کے اپنے کام کرے گا لیکن خالی وقت میں جب مسجد میں آئے گا اس کو ابتدائی آداب اسلام موٹے موٹے مسائل جو ہیں وضو کس طرح کرنا ہے اور نماز کس طرح ادا کرنی ہے وغیرہ وغیرہ موٹے موٹے مسائل سے اس کو آگاہی ہوگی لیکن اس کے اندر یہ جذ بہ اگر ہم پیدا نہیں کرتے کہ اس نے جاکے سکھانا ہے اور جہاں علم کی کمی کے نتیجہ میں عمل صالح پر دھبہ لگ رہا ہے اس کو دور کرنا ہے۔علم نہ ہو تو دھبہ لگ جاتا ہے نا۔وہ مثال تو صادق پوری نہیں آتی لیکن جب 1967ء میں میں نے اعلان کیا کہ مسجد تو خدا کا گھر ہے اس کے دروازے ہر موحد کے لئے خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے کیلئے کھلے ہیں تو افتتاح کے معابعد جمعہ تھا تو بتانے والوں نے بتایا کہ ویسے مسجد میں بھی کافی تھے شاید کئی سو آدمی ہوں ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا۔لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ نماز پڑھتے کس طرح ہیں۔اس واسطے جب ہم رکوع میں گئے تو انہوں نے اِدھر اُدھر بھی دیکھا اور معلوم کر لیا کہ یہ کس طرح رکوع کر رہے ہیں اس طرح ادھر اُدھر دیکھتے رہے وہ۔لیکن ہم تو نماز میں جب داخل ہو جائیں یعنی نماز شروع ہو جائے تو اس وقت ادھر ادھر نہیں دیکھتے۔وہ جو ان کی غلطی تھی وہ عدم علم کی وجہ سے تھی۔بہت ساری ایسی چھوٹی یا بڑی غلطیاں ہو جاتی ہیں اس لئے نہیں کہ نیت میں فتور ہے، اس لئے کہ علم میں نقص پایا جاتا ہے۔غلطی ہو جاتی ہے۔انکو اگر یہ جذبہ ہی نہیں کہ ہم نے جائزہ لیتے رہنا ہے کہ لاعلمی میں جہالت کے نتیجہ میں