خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 224 of 682

خطبات وقف جدید — Page 224

224 حضرت خلیفة المسیح الثالث افادیت نہیں۔وہ عام موٹے موٹے مسائل بھی بتاتا ہے لیکن بنیادی طور پر اس نے پالش کر کے ان کو انسان بنانا ہے۔وہ انسان جو مسلمان کی حیثیت سے جب دوسروں کے سامنے آتا ہے تو دیکھنے والی نگاہ اس میں اور غیر مسلم میں ایک فرق پاتی اور محسوس کرتی ہے، لیکن وضو کا طریق نماز میں کھڑے ہونے کا طریق۔ایک نماز پڑھنے کی جو سنت نبوی ہے ایک بڑی لمبی حدیث ہے غالباً بخاری میں ہے جہاں تک مجھے یاد ہے بچپن میں میں نے پڑھی تھی۔نبی کریم ﷺ نے جو تقسیم اوقات کیا ہے قیام میں ، رکوع ، سجدہ ، قعدہ بین السجدتین جو ہیں اس میں ،اس میں بڑا تفصیل سے ذکر ہے کہ وقفوں کی نسبتیں کیا تھیں۔وقت کے لحاظ سے جہاں ضرورت ہے اس کی وہ ہمیں بتادی۔ایک تو جو تلاوت کی جاتی ہے یا جس کی اجازت دی گئی ہے جتنی لمبی تلاوت کی اس نے وقت بتایا۔جو دعائیں ہیں انہوں نے وقت بتایا۔اس کا ایک حصہ تصوف کا رنگ عشق کا رنگ ہستی کا رنگ بھی اختیار کرتا ہے۔ایک ہے دین العجائز۔موٹی موٹی باتیں ہیں۔موٹی موٹی سمجھ والے آدمی جو ایک عام مسلمان کا معیار ہے لیکن جب میں ایک عام مسلمان کا معیار کہتا ہوں تو میں کوئی گری ہوئی چیز کا ذکر نہیں کر رہا۔وہ عام مسلمان کا معیار بھی آسمانوں کی رفعتوں پر ہمیں نظر آتا ہے۔کوئی غیر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔تو یہ مسائل بھی وہ بتاتے ہیں آداب بھی انہیں بتانے چاہئیں۔اور ان کا میں نے بتایا کہ اصل کام تو آداب سکھانا موٹے موٹے پھر مسائل بتانا ہے اور ضرورت اور اہمیت بڑی ہے۔میرے پاس خط آتے ہیں، جی ! ہمارے پاس ایک سال معلم رہا اب کہیں اور بھیج دیا گیا ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔یہ تو درست ہے کہ ایک سال آپ کے پاس رہنے کے بعد بھی آپ کو ضرورت ہے ، ہر وقت وہاں رہنا چاہیے لیکن اس میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں کہ آپ کے پاس ایک سال رہنے کے بعد جو آپ کی ضرورت ہے اس سے زیادہ اس دیہاتی جماعت کی ضرورت ہے جہاں ایک سال بھی نہیں رہا، وہ رہ ہی نہیں ایک دن بھی۔اس واسطے وہ بدل کے بھیجنے پڑتے ہیں۔اگر جتنی جماعتیں پاکستان میں ہیں اتنے معلمین ہوں یا اس سے دگنے ہوں کیونکہ ایک بھی بعض دفعہ نہیں سنبھال سکتا گاؤں کو۔کام کی زیادتی کی وجہ سے، تو پھر تو ٹھیک ہے۔پھر آپ کہیں کہ جی ! ہم سے لے لیا گیا۔ہمیں دیں۔لیکن اگر وقف جدید کے معلم اپنی تعداد میں تھوڑے اور یہ خدا کے فضل سے بڑھتی ہوئی جماعت اپنی تعداد میں اس کے مقابلے میں بہت بڑی اور ہر آن بڑھنے والی ہو تو معلمین کی تعداد بھی ہر آن بڑھنے والی چاہیے۔اگر ان کی تعداد نہ بڑھے۔ان کی تعداد تو اس نسبت سے زیادہ بڑھنی چاہیے کیونکہ وقفہ بڑا ہے یعنی اگر نوسو جماعتیں فرض کریں ہیں یا ایک ہزار جماعت ہو اور دو سو معلم ہو تو ان کی تعداد تو اس نسبت سے بڑھنی چاہیے کہ ایک ہزار بن جائے ، اس سے قبل کہ جماعتوں کی تعداد ہزار کی بجائے گیارہ سو بن جائے۔تو ویسے تو جب وہ گیارہ سو