خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 198 of 682

خطبات وقف جدید — Page 198

198 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبہ جمعہ فرموده 2 جنوری 1976 ء بیت اقصیٰ ربوہ ) سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی:۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَءُ وُفٌ بِالْعِبَادِ۔(البقره:208) اس کے بعد فرمایا: جب کسی جماعت پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کی بارش کرتا ہے تو ان کی دلی اور روحانی کیفیت ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا وہ اپنے نفسوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کے پیار کے حصول کے لئے بیچ ہی ڈالتے ہیں۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کا پیار جلوہ گر ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کے بندوں کے وجود میں اور ان کے نفوس میں اور ان کی روح میں عشق اور پیار کی کچھ اس قسم کی کیفیت ہوتی ہے کہ جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ہمارے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے فضلوں کا شکر ادا کرسکیں اور اس کی حمد بجالا سکیں۔اس نے اپنی رحمت سے ہمارے گذشتہ جلسہ کو کامیاب کیا اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ موجودہ حالات میں شاید جماعت کا ایک حصہ کمزوری دکھائے گا اور اللہ کیلئے ان کے پیار میں کمی پیدا ہو جائے گی اور وہ مہدی معہود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مرکز سلسلہ کی طرف نہیں آئینگے ان کے اس خیال کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار اور اپنی رحمت سے اس قسم کے سامان پیدا کئے کہ اس جلسہ پر پچھلے تمام جلسوں سے زیادہ احباب آئے اور ہر قسم کی صعوبتیں اٹھا کر اور روکوں کو پھلانگتے ہوئے آئے اور یہاں پر بھی بڑے سکون کے ساتھ اور بڑی توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سنا کیونکہ یہاں ہمارے جلسہ میں خدائے واحد و یگانہ کا ذکر ہی ہوتا ہے اور انہوں نے بظاہر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو زیادہ حاصل کرنے کے سامان پیدا کئے اور ہم سب کی ساری جماعت کی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور اپنے پیار کے جلوے ہمیشہ پہلے سے ا زیادہ دکھاتا چلا جائے۔دو چیزیں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں۔ایک یہ کہ وہ انتظامیہ جس کے سپرد یہ کام ہے کہ وہ قومی ترقی کیلئے منصوبے بنائے اور جس نے ملک کے تعلیمی اداروں کو قو میایا اور نیشنلائز کیا جماعت کا سب سے