خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 13 of 682

خطبات وقف جدید — Page 13

13 حضرت مصلح موعود ہوئی ہوگی کہ اگر ہم سے کام نہیں لو گے تو تم کو مبلغ نہیں ملیں گے اور صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید نے ان کے گلے میں رسی باندھی ہوئی ہوگی کہ اگر تم ہمارا کام نہیں کرو گے تو تم کو بھی روٹی نہیں ملے گی۔اس طرح دونوں فریق مجبور ہونگے کہ ایک دوسرے کا کام کریں اور ان دونوں کے ملنے سے لاکھوں میل کے رقبے میں تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے گا۔جہاں تک چندے کا سوال ہے میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت چندہ دینے کی عادی ہے اس لئے آہستہ آہستہ رقم آنی شروع ہو جائے گی۔جو رقم میں نے تجویز کی ہے وہ بہت معمولی ہے یعنی صرف چھ روپیہ سالانہ ہے۔تحریک جدید میں اس وقت ہیں، بائیس ہزار آدمی چندہ دے رہے ہیں۔اگر زور دیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ اس سکیم میں ایک لاکھ آدمی چندہ دینے لگ جائیں۔تحریک جدید کی رقم بہت زیادہ ہوتی ہے اس میں بعض لوگ پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ سوسو روپیہ بھی دیتے ہیں۔یہ رقم چونکہ کم ہے اس لئے کوئی بعید نہیں کہ اس سکیم میں حصہ لینے والے ایک لاکھ ہو جائیں اور اگر ایک لاکھ احمدی چھ روپیہ سالانہ کے حساب سے چندہ دے تو چھ لاکھ روپیہ آ جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ خرچ جو ایک واقف زندگی پر اس سکیم کے ماتحت کیا جائے گا ، وہ 60 روپیہ ماہوار ہے گویا دس واقفین زندگی پر 7200 روپیہ سالانہ خرچ آئے گا بلکہ اگر کم سے کم رقم دی جائے یعنی چالیس روپیہ ماہوار تو دس واقفین پر 4800 روپیہ سالانہ خرچ آئے گا اور سو واقفین 48000 روپیہ میں رکھے جاسکتے ہیں۔بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پورے طور پر اس سکیم پر توجہ دی جائے تو اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے اور اگر ڈیڑھ لاکھ آدمی چھ روپیہ سالانہ کے حساب سے چندہ دے تو کو لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوتی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ماہوار چھتر ہزار روپیہ آ جائے گا۔میں نے جو سکیم پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ فی الحال صرف دس واقفین لئے جائیں اور انھیں چالیس سے 60 روپیہ تک ماہوار گزارہ دیا جائے اگر نو لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہو جائے تو اس سے کئی گنا زیادہ واقفین رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ہر ایک واقف زندگی کو اگر ساٹھ روپیہ ماہوار دیں تو پچھتر ہزار میں 1250 مبلغ رکھے جاسکتے ہیں۔اور جب صحیح رنگ میں کام شروع ہو جائے گا تو ڈیڑھ لاکھ تو کیا میرا خیال ہے پانچ چھ لاکھ احمدی اس سکیم میں چندہ دینے لگ جائیں گے اور پھر ممکن ہے کہ وہ چندہ بڑھا کر دینے لگ جائیں اگر ہر ایک آدمی میرے بتائے ہوئے چندہ سے دو گنا یعنی بارہ روپیہ سالا نہ دے اور جماعت کے چھ لاکھ افراد چندہ دیں تو بہتر لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہو جاتی ہے یعنی چھ لاکھ روپیہ ماہوار اور اس میں ہم دس ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں اور دس ہزار مبلغ رکھنے سے ملک کی کوئی جہت ایسی نہیں رہتی جہاں ہماری رشد و اصلاح کی شاخ نہ ہو۔