خطبات وقف جدید — Page 14
14 حضرت مصلح موعود پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مشرقی بنگال والے اپنا بوجھ خود اٹھا لیں اور وہ خود اس سکیم کے لئے رقم جمع کر لیں ایسٹ بنگال کا رقبہ صرف 54 ہزار مربع میل ہے اگر ایک لاکھ آدمی اس سکیم میں حصہ لے تو ان کا کام چل سکتا ہے۔بلکہ پچاس ہزار آدمی بھی حصہ لے تو ایسٹ پاکستان اپنے کام کو سنبھال سکتا ہے۔پس میں جماعت کو اس خطبہ کے ذریعہ پھر تحریک کرتا ہوں کہ نوجوان اس وقف میں اپنے نام لکھوائیں اور آگے آنے کی کوشش کریں تا کہ جلد سے جلد انھیں مختلف جگہوں پر بٹھا دیا جائے اور دکانیں اور مدر سے کھول دیئے جائیں اور احمدیت کا پھل نکلنا شروع ہو جائے۔یہ یاد رکھو کہ مذہب کی تبلیغ پھل کی طرح ہوتی ہے اور پھل ایک دن میں نہیں نکلا کرتا۔اگر تم کسی زمین میں گندم بو دو تو تمہیں چھ ماہ میں پھل مل جائے گا۔لیکن باغ کا پھل بعض اوقات 8 سال میں بھی نہیں مل سکتا۔اگر تم باغ لگانا شروع کر دو اور پھر ایک ایک باغ باری باری لگاؤ تو ایک باغ کا پھل تمہیں آٹھ سال بعد ملے گا۔دوسرے کا سولہ سال بعد ملے گا۔تیسرے کا 24 سال بعد ملے گا۔چوتھے کا 32 سال بعد ملے گا۔پانچویں کا 40 سال بعد ملے گا۔ساتویں کا 56 سال بعد ملے گا۔آٹھویں کا 64 سال بعد ملے گا۔نویں کا 72 سال بعد ملے گا۔دسویں کا 80 سال بعد ملے گا اور گیارھویں کا 88 سال بعد ملے گا۔بارھویں کا 96 سال بعد ملے گا اور تیرھویں کا 104 سال بعد ملے گا اور تم میں سے کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ 104 سال زندہ رہے گا۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس وقف کی طرف توجہ کرے اور اپنے آپ کو ثواب کا مستحق بنائے۔یہ مفت کا ثواب ہے جو تمہیں مل رہا ہے اگر تم اسے نہیں لو گے تو یہ تمہاری بجائے دوسروں کو دے دیا جائے گا۔دیکھو جب یہاں کے لوگوں نے احمدیت کی طرف توجہ نہ کی تو اللہ تعالیٰ ایسٹ اور ویسٹ افریقہ کو آگے لے آیا۔اسی طرح اور کئی ملک احمدیت کی طرف توجہ کرنے لگے۔خدا تعالیٰ نے جو کام کرنا ہوتا ہے اس کے لئے وہ کوئی نہ کوئی ذریعہ نکال دیتا ہے۔اب ایسے ایسے ملک ہیں جن میں دس دس ، پندرہ پندرہ ہزار احمدی ہیں۔اگر باہر کے سارے احمدیوں کو ملا لیا جائے تو وہ پاکستان کے احمدیوں کے برابر ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ جب یہاں کے لوگوں نے احمدیت کو قبول کرنے میں ستی کی تو خدا تعالیٰ نے دوسرے ملکوں کے لوگوں کو احمدیت میں داخل کرنا شروع کر دیا۔چنانچہ اگر غانا ، سیرالیون ، نائجیر یا اور ایسٹ افریقہ کے علاقوں کینیا ، ٹانگانیکا، یوگنڈا اور امریکہ کے علاقوں ٹرینیڈاڈ ، ڈچ گی آنا ، برٹش گی آنا ، فرنچ گی آنا۔U۔S۔A اور دوسرے تمام یورپین اور ایشیائی ممالک کو جہاں جہاں احمدی پائے جاتے ہیں ملا لیا جائے تو پتہ لگ جائے گا کہ ان کی مشترکہ احمدی آبادی مغربی پاکستان کی احمدی آبادی سے کم نہیں۔خدا تعالیٰ کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ سارے احمدی ایک ہی ملک میں پائے جائیں بلکہ وہ جہاں چاہتا