خطبات وقف جدید — Page 187
187 حضرت خلیفہ امسح الثالث خطبه جمعه فرمودہ 18 جنوری 1974 ء بیت اقصیٰ ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: ہمارے وجود کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہے۔اس نے اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ہمارے جلسہ کو بہت ہی بابرکت بنایا اور اس کی برکتوں سے نہ صرف اہل پاکستان کے لیے بلکہ دنیا میں بسنے والوں کے لئے رحمت کے سامان پیدا کئے۔جو دوست یہاں بیرونی وفود کی صورت میں یا جو دوست بیرونی ممالک میں بسنے والے احمدیوں کی نمائندگی میں یہاں پہنچے اور جلسہ میں شامل ہوئے تھے ان میں سے تقریباً سب واپس پہنچ چکے ہیں اور خدا تعالیٰ کے حُسن اور اس کے احسان کے جو جلوے اُنہوں جلسہ کے ایام میں یہاں دیکھے تھے اپنے اپنے علاقوں اور ملکوں میں ان کے متعلق وہاں بسنے والے احمدیوں اور ان کے دوستوں کو حالات بتانے شروع کر دیئے ہیں۔یہاں جو تاثر اُنہوں نے ظاہر کیا وہ تو یہ تھا کہ ہمارے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ اس تحریک کا یہ سالانہ جلسہ اس قدرشان اور عظمت کا حامل اور اس قدر برکتوں کے حصول کا ذریعہ بن جاتا ہے۔بہر حال ہر ایک نے اپنی فطرت اور طبیعت کے مطابق اثرات قبول کیسے اور اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق ان تأثرات کو اپنے اپنے ملکوں میں پھیلائیں گے۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر جماعت کو یہ بتایا تھا کہ یہ عظیم منصوبہ جس کا میں اعلان کر رہا ہوں اس کا ماٹو (MOTTO) دو بنیادی حقیقتیں ہیں جن کو ہم حمد اور عزم کے دو لفظوں سے پکار سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہم عاجز بندوں پر مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ بڑی ہی رحمتیں نازل کرنا شروع کی ہیں اور ہم حمد کے ترانے گاتے ہوئے پختہ عزم کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہیں جس کی تعیین غلبہ اسلام کے لئے آسمانوں سے ہوئی اور ہمارا ہر قدم اس شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے وہ دن آنے والا ہے جب اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا اور تمام ماتیں مٹ جائیں گی سوائے اسلام کے۔جس کا گھر ہر انسان کا سینہ ہوگا اور جس خدا کو اس نے پیش کیا اس کی محبت میں ہر دل مستانہ وار اپنی زندگی گزار رہا ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ جب وہ انسان کے لئے برکات اور رحمتوں کے سامان پیدا کرتا ہے اور انسان کی عاجز قربانیوں کو قبول کرتا ہے تو وہ لوگ جو زمین کی پستیوں کی طرف جھکنے والے اور