خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 188 of 682

خطبات وقف جدید — Page 188

188 حضرت خلیفتہ مسیح الثالث آسمانی رفعتوں سے بے خبر ہیں وہ حسد کی آگ بھڑکاتے ہیں اور حسد کی یہ آگ ایک عقلمند مومن مسلم کے لئے یہ دلیل مہیا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قربانیوں کو قبول کیا۔بنیادی صداقت تو توحید باری ہی ہے باقی سب فروعات ہیں۔بہر حال بنیادی صداقت اور اس بنیادی صداقت کی فروعات کو ( جو صداقتوں کی شکل میں ہمارے سامنے آتی ہیں) جھوٹ کے سہارے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔نہ بنیادی صداقت کو تضاد یا اختلاف کا سہارا لینا پڑا۔جب کسی دعوی کے خلاف جب کسی حقیقت کو نا کام بنانے کے لئے جھوٹ اور افترا کا سہارا لیا جائے اور ایک ایک بیان میں انسان کو دس دس تضاد نظر آئیں تو محض یہ فعل ہی کہ جھوٹ کا سہارا لیا گیا اور متضاد باتیں بیان کر کے صداقت کو چھپانے کی کوشش کی گئی اس بات کی بتین دلیل ہوتی ہے کہ جس چیز کے خلاف یہ مہم جاری کی گئی ، جس کے خلاف جھوٹ باندھا گیا اور افتر ا سے کام لیا گیا، متضاد باتیں بیان کر کے سننے والے کے دماغ میں خبط اور الجھاؤ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی وہ یقیناً صداقت ہے اور صداقت کو کسی جھوٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں۔صداقت یا صراط مستقیم کے ساتھ تضاد کا تخیل اکٹھا ہوہی نہیں سکتا۔صداقت تو ایک سیدھی راہ ہے اور تضاد ایک ٹیڑھا راستہ ہے کبھی دائیں طرف نکلتا ہے اور کبھی بائیں طرف نکلتا ہے۔اور جو سیدھی راہ اور درمیانی راہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والی راہ جو اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی راہ ہے اُس سے بھٹکتا ہے۔کبھی دائیں طرف بھٹکتا ہے اور کبھی بائیں طرف بھٹکتا ہے۔بہر حال صداقت کو، صراط مستقیم کو ، نہ تضاد کی ضرورت کبھی پیدا ہوئی نہ جھوٹ کا سہارا لینے کی خواہش کبھی پیدا ہوئی۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے حقیقی اسلام کی ابدی صداقت پر قائم کیا۔اُس نے محض اپنے ہی فضل اور رحمت سے اپنی صفات کی معرفت ہمیں عطا کی ہے۔ہم اس کی عظمتوں کو پہچانتے ہیں۔وہ خدا جو جھوٹ کا دشمن ہے اس کی عظمتوں کے پہچاننے کے بعد ہم کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس عظیم ہستی کی محبت اور عظمت کو قائم کرنے کے لیے کبھی ہمیں جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت پڑے گی۔صداقت اور سچائی سے اس حقیقی صداقت اور سچائی کی طرف حسین اعمال سے حسن کے سرچشمہ کی طرف، نوع انسانی پر ہمیشہ احسان کرتے ہوئے محسن حقیقی کی طرف بلانا ہمارا کام ہے۔اور وہ جھوٹ کی طرف جھکتے ہیں تا کہ اس صداقت کو مٹا دیں۔وہ جو ایک ہی سانس میں متضاد باتیں بیان کرتے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی ہدایت اور رحمت کے سامان پیدا کرے اور اس حقیقت کو وہ سمجھے لگیں کہ جو سچ ہے وہ جھوٹ کی طرف مائل نہیں ہو سکتا اور جو سیدھی راہ ہے اُس میں تضاد نہیں پائے جاتے ، ٹیڑھا پن نہیں پایا جا تا۔جوابھی میں نے اصولی باتیں بیان کیں ان کے پس منظر میں کچھ واقعات ہیں جن کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں