خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 66 of 682

خطبات وقف جدید — Page 66

صلى الله 66 صلى الله حضرت مصلح موعود رسول کریم ﷺ کے طفیل ملا ہے اور رسول کریم ﷺ فوت ہو چکے ہیں اس لئے یہ آٹا سب سے پہلے حضرت ام المومنین عائشہ کے پاس لے جاؤ۔چنانچہ آنا حضرت عائشہ کے پاس لایا گیا آپ نے اس کی روٹی پکوائی۔چونکہ آٹا میدہ کی قسم کا تھا اس لئے نہایت ملائم روٹی پکی۔جب آپ نے ایک لقمہ منہ میں ڈالا تو آپ کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگ گئے ، وہ خادمہ جس نے روٹی پکائی تھی گھبرا کر کہنے لگی آٹا تو بہت ملائم ہے اور روٹی بھی اچھی پکی ہے پھر آپ روتی کیوں ہیں حضرت عائشہ نے فرمایا تو نہیں جانتی رسول کریم ﷺ کے دانت آخری عمر میں کمزور ہو گئے تھے اور ہم دانوں کو پتھروں سے گوٹ کر روٹیاں پکایا کرتیں تھیں چنانچہ جو روٹیاں تیار ہوتیں تھیں وہ بڑی سخت ہوتیں تھیں اور وہی رسول کریم ﷺ کھایا کرتے تھے۔آج ان کے طفیل ہمیں یہ ملائم آٹا ملا ہے مگر مجھے یہ خیال کر کے رونا آیا کہ جن کے طفیل ہمیں یہ نعمت ملی وہ تو اس دنیا میں نہ رہے اور ہمیں یہ چیز مل گئی۔حقیقتاً ہماری حالت بھی حضرت عائشہ جیسی ہی ہے اسلام کو دنیا میں پھیلانے کے خواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھے تھے آپ کے اشتہارات اس بات سے بھرے پڑے ہیں کہ ہم نے یورپ اور امریکہ میں اسلام پھیلانا ہے لیکن آپ ساری عمر اپنے مخالفوں سے گالیاں کھاتے رہے بلکہ آپ کی وفات پر بھی لاہور والوں نے آپ کا مصنوعی جنازہ نکالا اور خوشیاں منائیں لیکن آپ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہ دن نصیب کیا کہ ہم یورپ اور امریکہ میں تبلیغ اسلام کر کے آپ کی خوابوں کو پورا کر رہے ہیں حالانکہ یہ سب کچھ انہی کے طفیل ہے اور ہمارا یہ کام آپ کی ہی دعاؤں اور تعلیم کا نتیجہ ہے آپ نے ہمیں قرآن کریم کی وہ تفسیر سکھائی جس کی وجہ سے آج سارے پادری کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ بالکل حضرت عائشہ والی مثال ہے کہ ملائم آٹا جن کے طفیل ملا وہ تو دنیا میں نہ رہے اور بعد میں آنے والوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ہم کو بھی اسلام کی اشاعت کی توفیق ملی مگر اس وقت جب ہمارے ہاتھ میں یہ ہتھیار دینے والا اور اسلام کے غلبہ کی خوا ہیں دیکھنے والا اس دنیا میں نہیں ہے اب بھی ہماری خواہش یہی ہے کہ ہمارے ذریعہ اسلام اس طرح پھیلے اور اس طرح اس کی اشاعت ہو کہ ہم اسلام کی فتح کا جھنڈا قیامت کے روز آپ کے قدموں میں ڈال دیں اور کہیں اے مسیح موعود یہ تیرے خوابوں کی تفسیر ہے یہ تیری خواہشات کا ظہور ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام پہلے بھی موجود تھا قرآن پہلے بھی موجود تھا مگر کسی مسلمان کے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہ ہوا کہ اسلام دنیا پر غالب ہو۔تیرے ہی دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور تو نے ہی ہمیں وہ تفسیر سکھائی جس کی وجہ سے ہم ہر جگہ غالب ہو رہے ہیں۔یہ جھنڈا تیرا ہی ہے اس لئے ہم اسے تیرے ہی قدموں میں ڈالتے ہیں اب تیرا ہی یہ منصب ہے کہ تو یہ جھنڈا محمد رسول اللہ اللہ کے قدموں میں ڈال دے کیونکہ اسلام لانے والے محمد رسول اللہ