خطبات وقف جدید — Page 65
65 حضرت مصلح موعود لئے آیا ہوں کہ اگر آپ نے اسے قتل کروانا ہو تو مجھ سے کروائیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اور صحابی اسے قتل کرے تو بعد میں کسی وقت مجھے جوش آجائے اور میں اسے قتل کر بیٹھوں اس لئے کہ اس نے میرے باپ کو مارا ہے لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔اب گو رسول کریم ﷺ نے اس کا یہ گناہ معاف کر دیا تھا مگر اس کے بیٹے نے اسے معاف نہ کیا۔جب لشکر مدینہ کو واپس چلا تو اس کا بیٹا جلدی سے آگے نکل کر شہر کے دروازے پر کھڑا ہو گیا ،تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔جب عبد اللہ بن ابی بن سلول مدینہ میں داخل ہونے لگا تو اس کے بیٹے نے کہا میں تمہیں اس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تو یہاں کھڑا ہو کر اس بات کا اقرار نہ کرے کہ تو مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہے اور محمد رسول اللہ اللہ مدینہ کے سب سے زیادہ معزب شخص ہیں اگر تو نے اس بات کا اقرار نہ کیا تو خدا کی قسم میں اس تلوار سے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا اور اس بات کی قطعا پرواہ نہیں کروں گا کہ تو میرا باپ ہے۔بیٹے کے منہ سے یہ بات سن کر وہ بہت گھبرایا اور جھٹ گھوڑے سے اتر آیا اور مدینہ کے دروازے میں کھڑے ہو کر اس نے کہا اے لوگوسن لو اور گواہ رہو کہ میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہوں اور محمد رسول اللہ صلى الله مدینہ کے سب سے زیادہ معزز انسان ہیں۔اس کے بعد اس کے بیٹے نے کہا اب تم اندر جاسکتے ہو ور نہ خدا کی قسم اگر تم یہ اقرار نہ کرتے تو میں تمہیں شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتا بلکہ یہیں تمہیں قتل کر دیتا تو دیکھو ان لوگوں نے کیسی شاندار قربانیاں کی تھیں۔آجکل تو کوئی اپنے دوست کے خلاف بھی بات نہیں سن سکتا لیکن وہاں بیٹا اپنے باپ کا رستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ تم یہ اقرار کرو کہ میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل شخص ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ مدینہ کے سب سے زیادہ معز شخص ہیں۔ورنہ میں الله تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا بلکہ تلوار سے اسی جگہ ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ہماری جماعت کو بھی دینی معاملات میں اسی قسم کی غیرت دکھانی چاہئے اور پھر انتظار کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی کس طرح مدد کرتا ہے یقیناً اگر وہ ایسا کریں گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ کے فرشتے پڑے باندھ کر نیچے اتریں گے اور وہ لوگوں کے دل دھو دھو کر احمدیت کے لئے صاف کر دیں گے اور جولوگ ان سے پہلے ایمان لاتے ہیں بعد میں آنے والے ان کے قدم چومیں گے اور ان کی قدر کریں گے کیونکہ جو شخص ایمان لے آتا ہے اس کے اندر ایمان کی قدر بھی ہوتی ہے اور وہ جانتا ہے کہ پہلے ایمان لانے والے کی غیرت اس سے بہر حال زیادہ ہے۔رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد ایران سے عرب میں چکیاں آئیں جو نہایت باریک آٹا پیستی تھیں جب ان چکیوں پر پہلی دفعہ آٹا پسا تو وہ حضرت عمرؓ کے پاس لایا گیا آپ نے فرمایا یہ آنا ہمیں