خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 64 of 682

خطبات وقف جدید — Page 64

64 حضرت مصلح موعود انچیف تھا اور وہاں جا کر اسے ٹانگ سے پکڑ کر سواری سے نیچے گھسیٹ لیا اور اسے مار ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارالشکر بھاگ گیا مگر کمانڈر انچیف پر حملہ کرنا آسان نہیں تھا۔یہ سارے لوگ یا تو زخمی ہو گئے یا وہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔چند زخمی صحابہ ایک جگہ پڑے ہوئے تھے کہ ایک شخص پانی لے کر وہاں پہنچا۔حضرت عکرمہ کی اسلام لانے سے پہلے بھی بڑی شان تھی اور اسلام لانے کے بعد بھی بڑی شان تھی اس لئے وہ پہلے ان کے پاس گیا اور کہنے لگا عکرمہ آپ شدید پیاسے معلوم ہوتے ہیں تھوڑا سا پانی پی لیں ، حضرت عکرمہ نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو حضرت فضل بن عباس بھی زخمی پڑے ہوئے تھے انھوں نے اس شخص کو کہا مجھے نظر آ رہا ہے کہ اس وقت میرا ایک اور ساتھی پانی کا سخت محتاج ہے وہ مجھ سے پہلے اسلام لایا ہے اس لئے مجھ سے زیادہ مستحق ہے تمہیں خدا کی قسم پہلے انھیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا چنانچہ وہ شخص ان کے پاس گیا اور ان سے پانی پینے کے لئے کہا لیکن انھوں نے بھی پاس والے زخمی صحابی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ پہلے انھیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آؤ۔وہ سات صحابہ تھے۔پانی پلانے والا شخص پانی لے کر ساتوں کے پاس باری باری گیا لیکن ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا جب آخری صحابی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے اور جب وہ واپس عکرمہ کے پاس آیا تو وہ بھی دم تو ڑ چکے تھے۔تو دیکھو اتنے شدید دشمن کو بھی خدا تعالیٰ نے کس قدر مخلص بنا دیا تھا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کر لیں اور ایسے اعمال بجالائیں جن سے لوگوں کی دشمنی دور ہو جائے۔اور ہماری محبت ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دین کے معاملہ میں مداہنت سے کام لیا جائے یہ کام تو منافق بھی کر سکتا ہے۔حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں اپنوں اور بیگانوں سے حسنِ سلوک کیا جائے وہاں دین کے معاملہ میں ایسی غیرت رکھی جائے کہ اگر عزیز سے عزیز وجود کو بھی خدا تعالیٰ کے لئے ترک کرنا پڑے تو انسان اسے فورا ترک کر دے۔صحابہ کو دیکھ لوانھوں نے اپنے ایمان کا کیسا عظیم الشان مظاہرہ کیا۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے ایک موقع پر کہا تھا اور قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ مجھے مدینہ میں داخل ہو لینے دو۔مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص ( یعنی وہ کمبخت خود) سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی نعوذ باللہ محمد کو وہاں سے نکال دے گا (منافقون: آیت 9) یہ بات رسول کریم ﷺ کو بھی پہنچ گئی عبد اللہ بن ابی بن سلول کا بیٹا جس کا پہلا نام حباب تھا مگر بعد میں رسول کریم ﷺ نے اس کا نام بھی عبداللہ رکھ دیا تھا بھاگتا ہوا رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا یا رسول اللہ میرے باپ نے ایسی بات کہی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہوسکتی میں صرف یہ درخواست کرنے کے الله