خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 599 of 682

خطبات وقف جدید — Page 599

599 حضرت خلیة المسح الامس ایه الله: ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تو یہ تھیں اس زمانے کی عورتوں کی مثالیں۔اس زمانے میں بھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی ایسی عورتیں ہیں جو بے دریغ خرچ کرتی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کئی مثالیں دی ہیں۔خلافت ثالثہ میں بھی کئی مثالیں ہیں۔خلافت رابعہ میں بھی کئی مثالیں ملتی ہیں۔اب بھی کئی عورتیں ہیں جوقربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، اپنے زیورا تار کر دے دیتی ہیں۔تو جب تک عورتوں میں مالی قربانی کا احساس برقرار رہے گا اس وقت تک انشاء اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والی نسلیں بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتی رہیں گی۔یہ جو میں بار بار زور دیتا ہوں کہ نو مبائعین کو بھی مالی نظام کا حصہ بنا ئیں یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے بڑا ضروری ہے کہ جب اس طرح بڑی تعداد میں نو مبائعین آئیں گے تو موجودہ قربانیاں کرنے والے کہیں اس تعداد میں گم ہی نہ ہو جائیں اور بجائے ان کی تربیت کرنے کے ان کے زیر اثر نہ آجائیں۔اس لئے نو مبائعین کو بہر حال قربانیوں کی عادت ڈالنی پڑے گی اور نومبائع صرف تین سال کے لئے ہے۔تین سال کے بعد بہر حال اسے جماعت کا ایک حصہ بننا چاہئے۔خاص طور پر نئی آنے والی عورتوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔پھر ایک روایت میں ہے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا افح یعنی بخل سے بچو۔یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا تھا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 159 مطبوعہ بیروت مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص حدیث نمبر 6451) پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں بخل کا بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بڑا ہی انذار ہے اس میں۔پہلی قوموں کی ہلاکت اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تھے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پرانے احمدیوں کی بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیوں کی اہمیت کو بجھتی ہے لیکن اگر نئے آنے والوں کو اس کی عادت نہ ڈالی اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے تو پھر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوفناک انذار فرمایا ہے۔پس اس انعام کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی جو توفیق دی ہے اس کا شکر بجالائیں اور آپ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کا پیغام تو پھیلنا ہی ہے یہ تقدیر الہی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں لیکن اگر تم نے کنجوسی کی تو اپنی کنجوسی کی وجہ سے تم لوگ ختم ہو جاؤ گے جس طرح کہ حدیث میں ذکر بھی ہے اور لوگ آجائیں گے۔جیسا کہ فرمایا ہے وَمَنْ يُبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ (محمد : 39) اور جو کوئی بجل