خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 598 of 682

خطبات وقف جدید — Page 598

598 حضرت علیه مسح الخمس ايد العالی بنصرہ العزیز پس یہ جو وقف جدید کا چندہ ہے اس میں تو ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ضرور اتنی رقم ہونی چاہئے۔غریب سے غریب بھی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔جب مالی قربانی کریں گے تو پھر دعائیں بھی لے رہے ہوں گے۔فرشتوں کی دعائیں بھی لے رہے ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا بھی حاصل کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اس قربانی کی وجہ سے حالات بہتر فرمائے گا۔پس ہر احمدی کو مالی قربانی کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔نومبائعین کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو اپنے نفس کی اصلاح کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کی جائے ، اس میں ضرور شامل ہوا جائے۔پھر اس پیغام کو پہنچانے کے لئے مالی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے نو مبائعین کو بھی شروع میں ہی عادت ڈالنی چاہئے۔اپنے آپ کو اس طرح اگر عادت ڈال دی جائے تھوڑی قربانی دے کر وقف جدید میں شامل ہوں پھر عادت یہ بڑھتی چلی جائے گی اور مالی قربانیوں کی توفیق بھی بڑھتی چلی جائے گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے وقف جدید کی تحریک شروع فرمائی تھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ” مجھے امید ہے کہ یہ تحریک جس قدر مضبوط ہوگی اسی قد رخدا تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے چندوں میں بھی اضافہ ہوگا“۔(الفضل 5 رجنوری 1962ء) پس جماعت کی انتظامیہ کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تمام کمزوروں اور نئے آنے والوں کو بھی مالی قربانی کی اہمیت سے آگاہ کرے، ان پر واضح کرے کہ کیا اہمیت ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں سے ان کو آگاہی کرائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بارے میں جو ارشادات ہیں ان سے لوگوں کو آگاہ کریں۔اگر نہیں کرتے تو پھر میرے نزدیک انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیکیوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے محروم کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اس جہاد سے پھر نفس کے جہاد کی بھی عادت پڑے گی، اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی، عبادتوں کی بھی عادت پڑے گی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارنماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے اور نماز کا آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا۔جب فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔آپ اس وقت حضرت بلال کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلال نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جارہی تھیں۔(بخاری کتاب العيدين باب موعظة الامام النساء يوم العيد