خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 597 of 682

خطبات وقف جدید — Page 597

597 ا ا ا ا ا س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مریدوں نے دکھایا۔وہ ہر وقت اس سوچ میں رہتے تھے، اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب کوئی مالی تحریک ہو اور ہم قربانیاں دیں۔آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔اس زمانے میں مادیت پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی کا تو براہ راست اثر آپ کے صحابہ پر پڑتا تھا۔آج زمانہ اتنا دور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدے کئے ہیں اس کے نظارے ہمیں دکھا رہا ہے۔کئی احمدی نوجوان ایسے ہیں جو اپنی خواہشات کو مارتے ہوئے اپنی جمع پونچی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔گزشتہ سال کی بات ہے پاکستان کی جماعتوں کے لئے جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا سال کے آخر میں اس کا پورا ہونے کا وقت آیا تو اس بارے میں مجھے صدر لجنہ لاہور نے ایک رپورٹ دی۔انہوں نے بھی اپنی لجنہ کو تحریک کی تو اس وقت ایک بچی نے اپنی جہیز کی رقم میں سے بہت بڑی رقم ادا کر دی اور پرواہ نہیں کی کہ جہیز اچھا بنتا ہے کہ نہیں بنتا یا بنتا بھی ہے کہ نہیں۔اور وہ بچی اس جلسے پہ قادیان بھی آئی تھی اور مجھے ملی۔تو ایسے لوگ اس زمانے میں بھی ہیں جو اپنے مال اور نفس کا جہاد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس بچی کی بھی شادی ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے ، بابرکت فرمائے اور اس قربانی کے بدلے میں اسے اتنا دے کہ اس سے سنبھالا نہ جائے اور پھر اس میں برکت کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی طرف راغب ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے بے شمار قربانیاں کرنے والے جماعت کو دیتا چلا جائے۔اور وہ فرشتوں کی دعاؤں کے بھی وارث ہوں کہ اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس جیسے اور پیدا کرتا چلا جائے۔پس مالی قربانی کرنے والے ہر جگہ سے دعائیں لے رہے ہوتے ہیں۔اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے اور جنت کے وارث بن رہے ہوتے ہیں۔اللہ کرے کہ جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بے شمار جگہ مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو“۔دو ( بخاری کتاب الزکوة - باب اتقوا النار ولو بشق تمرة )۔یعنی اللہ کی راہ میں قربانی کرو چاہے آدھی کھجور کے برابر ہی کرو۔