خطبات وقف جدید — Page 566
566 ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آپ فرماتے ہیں کہ۔خرچ ہو)۔”اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔ان کے بعض خطوط کی چند سطر میں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں : " میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیرومرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔اگر خریدار براہین کے تو قف طبع کتاب سے مضطرب ہوں تو مجھے اجازت فرمائیے کہ یہ ادنی خدمت بجالا ؤں کہ ان کی تمام قیمت ادا کردہ اپنے پاس سے واپس کر دوں۔حضرت پیر ومرشد نابکا رشرمسار عرض کرتا ہے اگر منظور ہو تو میری سعادت ہے۔میرا منشاء ہے کہ براہین کے طبع کا تمام خرج میرے پر ڈال دیا جائے۔پھر جو کچھ قیمت میں وصول ہو وہ روپیہ آپ کی ضروریات میں خرچ ہو۔مجھے آپ سے نسبت فاروقی ہے اور سب کچھ اس راہ میں فدا کرنے کے لئے تیار ہوں۔دعا فرما دیں کہ میری موت صدیقوں کی موت ہو۔“ ( فتح اسلام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 36،35) ( یعنی پیسے بھی دے رہے ہیں اور فرمایا کہ اس کے بعد جو آمد ہو وہ بھی اسی کام کو جاری رکھنے کیلئے پھر حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی قربانی کا بھی ایک واقعہ ہے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ: ایک دفعہ اوائل زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لدھیانہ میں کسی ضروری تبلیغی اشتہار کے چھپوانے کیلئے ساٹھ روپے کی ضرورت پیش آئی۔اس وقت حضرت صاحب کے پاس اس رقم کا انتظام نہیں تھا اور ضرورت فوری اور سخت تھی۔منشی صاحب کہتے تھے کہ میں اس وقت حضرت صاحب کے پاس لدھیانہ میں اکیلا آیا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اس وقت یہ اہم ضرورت در پیش ہے۔کیا آپ کی جماعت اس رقم کا انتظام کر سکے گی۔میں نے عرض کیا حضرت انشاء اللہ کر سکے گی اور میں جا کر روپے لاتا ہوں۔چنانچہ میں فورا کپورتھلہ گیا اور جماعت کے کسی فرد سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا ایک زیور فروخت کر کے ساٹھ روپے