خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 565 of 682

خطبات وقف جدید — Page 565

565 حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔س ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز میں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔جوشخص بچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا کہ اس کے صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے اور امساک اس سے اس طرح دُور ہو جاتا ہے ( یعنی کنجوسی اس سے دور ہو جاتی ہے ) جیسا کہ روشنی سے تاریکی دُور ہو جاتی ہے۔“ پھر فرمایا۔( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 614 اشتہار تمبر 1903 ء) قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجا لا وے۔مالی طرح پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتا ہی نہیں چاہیے۔دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔رسول کریم ﷺ ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 358) ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جا تا اور وہاں محنت مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طور پر ایک مد ( اناج وغیرہ ) ملتا تو وہ اس میں سے صدقہ کرتا ) اور اب ان کا یہ حال ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔(بخاری کتاب الاجاره ، باب من آجر نفسه ليحمل على ظهره ثم تصدق به۔۔۔۔۔۔۔اسی سنت کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی جماعت میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں عورتوں نے بھی سلائی کڑھائی کر کے یا مرغی کے انڈے بیچ کر اپنے استعمال میں لائے بغیر خلیفہ وقت کی طرف سے کی گئی تحریکات میں حصہ لیا اور اس طرح سے پہلوں سے ملنے کی پیشگوئی کو بھی پورا کیا۔حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے بارہ میں لکھا ہے لیکن ہر دفعہ پڑھنے سے ایمان میں ایک تازگی پیدا ہوتی ہے اور قربانی کی ایک نئی روح پیدا ہوتی ہے۔