خطبات وقف جدید — Page 564
564 حضرت عليه اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز فرمائے گا اور اسے بڑھاتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ پہاڑ جتنی ہو جائے گی۔جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چھوٹے سے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک بڑا جانور بن جاتا ہے۔(بخارى كتاب الزكواة بَابُ الصَّدَقَةِ مِنْ كَسْبِ طَيِّبِ) آج جماعت میں ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے بزرگوں نے تکلیفیں اٹھا کر اپنی پاک کمائی میں سے جو قربانیاں کیسں اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلوں کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالی۔پھر روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میں نے مسجد نبوی کے منبر پر رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا۔”اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو اگر چہ تمہارے پاس کھجور کا آدھا ہی ٹکڑا ہو ، وہی دے کر آگ سے بچو۔اس لئے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کی کبھی کو درست کرتا ہے۔بُری موت مرنے سے بچاتا ہے اور بھوکے کا پیٹ بھرتا ہے۔“ (بخارى كتاب الزكوة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة) تو اللہ تعالیٰ کی خاطر کی ہوئی قربانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس دنیا میں بھی راستے سے بھٹکنے سے بچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے شخص سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جن سے اس کا انجام بھی بخیر ہو۔حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہیے۔ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔دوسرے وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ ، دانائی اور علم وحکمت دی جس کی مدد سے وہ لوگوں کے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا بھی ہے۔(بخاری کتاب الزكوة باب انفاق المال في حقه ) ایک اور روایت میں آرتا ہے ، عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: الشح یعنی بخل سے بچو! یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی ( قوموں ) کو ہلاک کیا۔الله ( مسند احمد بن حنبل جلد 2 صفحہ 159 مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص حدیث نمبر 6451) الحمد للہ ! کہ آج جماعت میں ایسے لاکھوں افراد مل جاتے ہیں جو بخل تو علیحدہ بات ہے اپنے او پر تنگی وارد کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دیتے ہیں۔اور بخل کو کبھی بھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے۔