خطبات وقف جدید — Page 563
563 حضرت عليها اسم الفساد العالی بنصرہ العزیز واپس ہی نہیں کر سکتے۔کیونکہ سودا تا رنا ہی مشکل ہوتا ہے، سود در سود چڑھ رہا ہوتا ہے تو اس طرح وہ سونا جو ہے یا زیور جو ہے وہ اس قرض دینے والے کی ملکیت بنتا چلا جاتا ہے۔تو ایک ایسا ہی سود خور تھا اور فکر یہ تھی کہ میں نے بینک میں بھی نہیں رکھنا۔تو اپنے گھر میں ہی ، اپنے کمرے میں ایک گڑھا کھود کے وہیں اپناسیف رکھ کے، تجوری میں سارا کچھ رکھا کرتا تھا اور چالیس پچاس کلو تک اس کے پاس سونا اکٹھا ہو گیا تھا۔اور اس کے اوپر اپنا پلنگ بچھا کر سویا کرتا تھا ، خطرے کے پیش نظر کہ کوئی لے ہی نہ جائے۔اور سونا کیا تھا کیونکہ سونے کے اوپر تو چار پائی ہوتی تھی۔ساری رات جاگتا ہی رہتا تھا۔اسی فکر میں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ فوت ہو گیا۔تو وہ مال تو اس کے کسی کام نہ آیا۔اب اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کیا کرنا ہے وہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی ضمانت خدا تعالیٰ بہر حال نہیں دے رہا جب کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی ضمانت ہے کہ تمہیں کیا پتہ تم سے کیا کیا اعمال سرزد ہونے ہیں ، کیا کیا غلطیاں اور کوتا ہیاں ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر تم نیک نیتی سے اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو یہ ضمانت ہے کہ اعمال کے پلڑے میں جو بھی کمی رہ جائے گی تو چونکہ تم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوگا تو کبھی نہیں ہوسکتا کہ تم پر ظلم ہو، اس وقت کمیوں کو اسی طرح پورا کیا جائے گا اور کبھی ظلم نہیں ہوگا۔صلى الله اس بارہ میں ایک اور روایت ہے۔حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ یہ نے فرمایا : ” قیامت کے دن حساب کتاب ختم ہونے تک انفاق فی سبیل اللہ کرنے والا اللہ کی راہ میں خرچ کئے ہوئے اپنے مال کے سایہ میں رہے گا۔“ ( مسند احمد بن حنبل جلد 4 صفحہ 148 حدیث نمبر (16882) لیکن شرط یہ ہے کہ یہ خرچ کیا ہوا مال پاک مال ہو ، پاک کمائی میں سے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اتنے اجرا گر لینے ہیں اور اپنے مال کے سائے میں رہنا ہے تو گند سے تو اللہ تعالیٰ ایسے اعلیٰ اجر نہیں دیا کرتا اور جن کا مال گندہ ہوا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے نہیں ہوتے اور اگر کہیں خرچ کر بھی دیں اگر لاکھ روپیہ جیب میں ہے اور ایک روپیہ نکال کر دے بھی دیں گے تو پھر سو آدمیوں کو بتائیں گے کہ میں نے یہ نیکی کی ہے۔لیکن نیک لوگ، دین کا در در کھنے والے لوگ ، جن کی کمائی پاک ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بھی ان کی بڑی قدر کرتا ہے۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک کھجور بھی پاک کمائی سے اللہ کی راہ میں دی اور اللہ تعالیٰ پاک چیز کو ہی قبول فرماتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کھجور کو دائیں ہاتھ سے قبول الله