خطبات وقف جدید — Page 554
554 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ایک آج کا زمانہ ہے کہ کوئی جانتا ہی نہیں کہ مدددینی بھی ضروری ہے۔حالانکہ اپنی گزران عمدہ رکھتے ہیں۔ان کے برخلاف ہندوؤں وغیرہ کو دیکھو کہ کئی کئی لاکھ چندہ جمع کر کے کارخانہ چلاتے ہیں اور بڑی بڑی مذہبی عمارات بناتے اور دیگر موقعوں پر صرف کرتے ہیں حالانکہ یہاں تو بہت ہلکے چندے ہیں۔صحابہ کرام کو پہلے ہی سکھایا گیا تھا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران : 93) اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے اسکو نباہنا چاہیے اس کے برخلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 361،358) تو گويا مِمَّا تُحِبُّون میں یہ بات بھی داخل ہے کہ غریب آدمی ہے۔غریب آدمی کو مجبور امال سے محبت ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔میں نے، ایک دفعہ مجھے تجربہ ہے ایک جگہ میں گیا ایک قصبے میں تو وہاں پتہ چلا کہ ایک بہت امیر آدمی نے میری دعوت کی ہوئی ہے اور اس کے مقابل پر ایک غریب آدمی تھا۔معلوم کرنے پر پتہ لگا کہ جو امیر آدمی ہے وہ چندہ نہیں دیتا چندہ کے معاملے میں بہت کنجوس ہے اور جو غریب آدمی ہے وہ اپنی محنت سے کما کر اس میں سے چندہ دیتا تھا۔تو میں نے اسے عرض کیا کہ میں اس غریب کا کھانا کھاؤں گا۔امیر کی روٹی نہیں کھاؤں گا، چنانچہ ایسا ہی کیا پس اللہ نے اپنے فضل سے مجھے بہت تجربہ اس کا بخشا ہے۔جو غریب ہوں محنت سے کمانے والے ہوں ان کی کمائی میں بہت برکت ہوتی ہے۔پس اب اس سلسلہ میں یا درکھنا چاہیے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ صدقہ اور چندہ وغیرہ پاک کمائی میں سے دیا جاتا ہے۔اگر کمائی گندی ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔اس لئے جماعت کو چاہیے کہ اپنے اموال جو کمانے کے ہیں ان کو پاک اور صاف رکھیں۔کوئی آلائش نہ ہو گندے زمانے کی۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری قربانیاں مقبول ہوں گی۔اگر یہ نہیں ہو گا تو جتنا چاہیں مال خرچ کریں وہ قبول نہیں ہوسکتا۔اب میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔وقف جدید کی تحریک آج سے 45 سال قبل حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے 27 دسمبر 1957ء کو جاری فرمائی۔احمدی بچوں کے دلوں میں اس تحریک کی محبت بچپن سے ہی پیدا کرنے کیلئے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1966 ء میں وقف جدید کے دفتر اطفال کا اجرا فرمایا۔شروع میں یہ تحریک صرف پاکستان اور ہندوستان کیلئے محدود تھی۔پھر