خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 545 of 682

خطبات وقف جدید — Page 545

ر 545 حضرت خلیفہ المسیح الرابع بلند چبوترہ ہے جو دوکان کے مشابہ ہے اور شاید اس پر چھت بھی ہے۔اس میں ایک نہایت خوبصورت لڑکا بیٹھا ہے جو قریباً سات برس کی عمر کا تھا۔میرے دل میں گزرا کہ یہ فرشتہ ہے۔اس نے مجھے بلایا یا میں خود گیا یہ یاد نہیں لیکن جب میں اس کے چبوترہ کے پاس جا کر کھڑا ہوا تو اس نے ایک نان جو نہایت لطیف تھا اور چمک رہا تھا اور بہت بڑا تھا گویا چارنان کی مقدار پر تھا اپنے ہاتھ میں پکڑ کر مجھے دیا اور کہا کہ یہ نان لو، یہ تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔سو دس برس کے بعد اس خواب کا ظہور ہو گیا۔اگر کوئی دل کی صفائی سے قادیان میں آکر رہے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہی روٹی جو فرشتہ نے دی تھی دو وقت ہمیں غیب سے ملتی ہے۔کئی عیال دار دو وقت یہاں سے روٹی کھاتے ہیں، کئی نا بینا اور اپاہج اور مسکین دو وقت اس لنگر خانہ سے روٹی لے جاتے ہیں اور ہر ایک طرف سے مہمان آتے ہیں اور اوسط تعداد روٹی کھانے والوں کی ہر روز دوسو اور کبھی تین سو اور کبھی زیادہ ہوتی ہے جو دو وقت اس لنگر سے روٹی کھاتے ہیں اور دوسرے مصارف مہمانداری کے الگ ہیں اور اوسط خرچ بہت کفایت شعاری سے پندرہ سو روپیہ ماہواری ہوتا ہے مگر اور کئی متفرق خرچ ہیں جو اس کے علاوہ ہیں یہ خدا کا معجزہ ہمیں برس سے میں دیکھ رہا ہوں کہ غیب سے ہمیں وہ روٹی ملتی ہے اور نہیں معلوم ہوتا کہ کل کہاں سے آئے گی لیکن آجاتی ہے۔حضرت عیسی کے حواریوں کی تو یہ دعا تھی کہ اے خدا ہمیں روز کی روٹی دے لیکن خدائے کریم ہمیں بغیر دعا کے ہر روز کی روٹی دے رہا ہے اور جیسا کہ فرشتہ نے کہا تھا کہ یہ روٹی تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے درویشوں کیلئے ہے اسی طرح خدائے کریم مجھے اور میرے ساتھ کے درویشوں کو ہر روز اپنی طرف سے یہ دعوت بھیجتا ہے۔پس ہر روز نئی دعوت اس کی ہمارے لئے ایک نیا نشان ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ 290) اُس زمانہ میں تین سو مہمان روزانہ لنگر خانہ میں آنا ایک بہت بڑی چیز تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر ہے۔لُفَاظَاتُ المَوَائِدِ كَانَ أُكُلِي وَصِرْتُ اليَومَ مِطْعَامَ الَا هَالِى ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 596)