خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 516 of 682

خطبات وقف جدید — Page 516

516 حضرت خلیفتہ مسیح الرابع شاور کو بدن پر استعمال کرتا ہوں ضرور بند کرتا ہوں پھر اور بند کرنے کے بعد بدن کو تیار کیا نہانے کے لئے جو بھی ضرورتیں ہیں وہ پوری کیں پھر شاور کے سامنے آگئے اور اگر گرم پانی میں خرابی کے خطرے کے پیش نظر شاور کھلی رکھی جائے تو شاور سے پہلے پہلے میں ساری تیاری کر لیتا ہوں تا کہ جب شاور شروع ہو جائے تو پھر مسلسل اس کا جائز اور صحیح استعمال ہو۔جتنا پانی میں بچاتا ہوں انگلستان کا اگر سارے انگلستان والے بچانا شروع کر دیں تو پانی کی مصیبت ہی حل ہو جائے۔اب یہ جو گندہ پانی پلاتے ہیں آپ کو ، وہ بد روؤں سے نکال نکال کر صاف کرتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا اس میں دوائیاں ڈالتے ہیں اللہ ہی رحم کرے۔میں نے تو جب سے اس نظام کے متعلق معلومات حاصل کی ہیں یہ پانی پینا ہی چھوڑ دیا ہے۔وہ بوتلیں ہمارے گھر میں استعمال ہوتی ہیں خرچ تھوڑا سا زیادہ ہے مگر یہ تو پتہ ہے جو اللہ نے پاک رزق دیا تھا وہی ہے۔یہ انسان کا گند ملا ہوا رزق نہیں ہے۔تو آسان ترکیب ہے اس کو اپنے گردو پیش میں عام کریں یہ بھی تو صدقہ ہے رمضان کا۔رمضان کے صدقے میں اسکو داخل کریں۔سارے امیر ممالک میں احمدی یہ جھنڈا اٹھا لیں کہ ویسٹ (WASTE) نہ کرو ویسٹ (WASTE) نہ کرو اور یہ ویسٹ (WASTE) جو ہے ضیاع یہ امریکہ میں اتنا زیادہ ہے کہ تمام دنیا کے غریب ممالک امریکہ کا ضیاع بچانے کے نتیجے میں پل سکتے ہیں۔خوراک کی کمی انسان کا بنایا ہوا مسئلہ ہے۔اللہ کا بنایا ہوا نہیں ہے انسان کی خساستیں ایک طرف اور اس کی فضول خرچیاں دوسری طرف۔ان دونوں کے درمیان یہ خوراک کے مسائل ہیں۔جہاں دل کھول کر خوراک غریبوں کو دینی چاہئے وہاں ہاتھ روک لیتے ہیں۔جہاں اپنے اوپر بچت سے خرچ کرنی چاہئے وہاں ہاتھ کھول دیتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان میں بنی نوع انسان مارے جا رہے ہیں۔تمام بنی نوع انسان کے بھو کے ان مصیبتوں کا شکار ہیں۔تو ہمیں ہر رمضان میں ایک مہم چلانی چاہئے جو نیکی اور خیرات کو عام کرنے کی مہم ہو۔اس رمضانِ مبارک میں یہ ہم بھی چلائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا فیض پہنچائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے پیسے کے برابر نہیں ہوگا۔۔۔خدا تعالیٰ نے متواتر ظاہر کر دیا ہے کہ واقعی اور قطعی طور پر وہی شخص اس جماعت میں داخل سمجھا جائے گا کہ اپنے عزیز مال کو اس راہ میں خرچ کرے گا“۔( مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 613 اشتہار ستمبر 1903ء)