خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 517 of 682

خطبات وقف جدید — Page 517

517 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اب بخل کی جہاں تک بات ہے غریبوں پر یا دوسروں پر بخل کرنا خواہ نیک لفظوں کے ذریعے نصیحت کا بخل ہو یا خرچ کرنے کا بخل ہو ، بخل کی بہت سی مختلف شکلیں ہیں ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: د میں یقینا سمجھتا ہوں کہ بخل اور ایمان ایک ہی دل میں جمع نہیں ہو سکتے جوشخص بچے دل سے خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اپنا مال صرف اس مال کو نہیں سمجھتا کہ اس کے 66 صندوق میں بند ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے تمام خزائن کو اپنے خزائن سمجھتا ہے۔اب دیکھیں یہ بات عجیب سی ہے بظاہر۔فرمایا بخل اور ایمان اکٹھا نہیں ہوسکتا ایک دل میں اور ایک آدمی کے پاس تھوڑا سا مال ہے وہ بخل کرے گا نا اس کے نتیجے میں فرمایا جو صندوق میں بند ہے تمہارا مال ، وہ مال، وہ تو بہت تھوڑا ہے مگر تم بخل کیوں کرتے ہو کہ اللہ کے خزائن تمہارے خزائن ہیں۔اللہ کے خزائن ختم نہیں ہو سکتے اور جب تم یہ یقین رکھتے ہوئے خرچ کرو گے کہ اللہ کے خزائن ختم نہیں ہو سکتے تو اللہ تمہارے خزائن کو ختم نہیں ہونے دیگا۔یہ بہت عارفانہ کلام ہے اس کو غور سے سمجھیں تو زندگیاں سنور سکتی ہیں۔اور امساک اس سے اس طرح دور ہو جاتا ہے جیسا کہ روشنی سے تاریکی دور ہو جاتی ہے اور یقین سمجھو کہ صرف یہی گناہ نہیں کہ میں ایک کام کے لئے کہوں اور کوئی شخص میری جماعت میں سے اس کی طرف کچھ التفات نہ کرے بلکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ بھی گناہ ہے کہ کوئی کسی قسم کی خدمت کر کے یہ خیال کرے کہ میں نے کچھ کیا ہے“۔( مجموعہ اشتہارات جدید ایڈیشن جلد 2 صفحہ 614 اشتہار تمبر 1903ء) توان امور کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھیں۔اب یہ حصہ میں چھوڑ رہا ہوں یہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ضرورتیں کیوں پڑتی ہیں الہی جماعتوں کو، انبیاء کو جن کے سپر دسب سے زیادہ کام ہو۔ان کو سب سے زیادہ ضرورتیں پیش آتی ہیں۔یہ بہت گہرا اور لمبا تفصیلی مضمون ہے۔ضرورتیں تو پیش آتی ہیں۔غریب بھی ہوتے ہیں مگر ان کی ضرورتیں پوری کرنے والا ہر وقت ان کی ضرورتیں پوری کرتا چلا جاتا ہے۔اور چندوں کے ذریعے جو بظاہر ابتلاء ہے غریبوں کے لئے بھی اور امیروں کے لئے بھی ان کے اموال میں بھی برکت ڈالتا ہے اور جماعت کے اموال میں بھی برکت ڈالتا ہے اور جب اللہ کی راہ میں وہ بظاہر اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو اس سے پھر جماعت کے اخراجات میں بھی بہت برکت پڑتی ہے یہ لمبا تفصیلی ایک دوسرے سے متعلق مضمون ہے جو کئی جگہ میں ظاہر کر چکا ہوں اس لئے میں اس کو اب یہاں نہیں کھولتا کیونکہ آگے ایک بہت ہی ضروری بات بھی