خطبات وقف جدید — Page 515
515 حضرت خلیفہ مسیح الرابع ہے۔اپنی جگہ زکو تیں ادا نہ کرتے پھر و بیت المال کو زکوۃ بھیجو اور اس کے بعد دوسرے جتنے بھی چندے ہیں صدقہ ، خیرات ، چندہ عام ، چنده خاص، وقف جدید وغیرہ ان سب میں روپیہ بچانے کی کوشش کرو۔یعنی اپنے فضول خرچوں میں کمی کر دو تا کہ جتنا بھی فضول خرچوں سے بچت ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ اس میں سے پوری کر دے۔یہ جو فضول خرچی ہے اس کے متعلق میں ضمناً یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں۔رمضان کا مہینہ ہے ، غریبوں کو کھانا کھلانے کے دن ہیں۔کھانے میں بھی انسان بہت سی فضول خرچیاں کرتا ہے اور سب سے زیادہ فضول خرچی وہ نہیں کہ اچھا کھانا کھائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اچھے کھانے اپنے بندوں ہی کی خاطر پیدا کئے ہیں۔فضول خرچی میں یہ سمجھتا ہوں کہ اچھا کھانا ہو یا برا کھانا۔بچا ہوا چھوڑ دے اور وہ ڈسٹ بن (Dust Bin) میں چلا جائے۔خصوصاً امریکہ اور انگلستان اور مغربی ممالک میں جتنے بھی امیر ممالک ہیں ان میں یہ عادت ہے۔اور ان کے بچوں میں بھی یہ عادت ہے۔میرا تو گھر میں ہر وقت یہ کام رہتا ہے کہ سمیٹتا رہتا ہوں اور ان کی پلیٹیں اور بچا ہوا خود کھا جاؤں تاکہ ڈسٹ بن میں نہ پھینکنا پڑے ،لیکن آجکل ڈائٹنگ پر بھی ہوں آخر کہاں تک کھا سکتا ہوں۔پھر میں کچھ فریزر میں بچالیتا ہوں۔سارا بچا ہوا سمیٹ کر جہاں تک میری نظر پڑتی ہے اس کو فریزر میں بچاتارہتا ہوں تا کہ یہ کھالوں اور اس طرح فضول خرچی نہ ہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فضول خرچی نہ کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔یہ بھی فضول خرچی ہے جو یا درکھیں انگلستان کے بچوں کو بہت بیہودہ عادت ہے اس فضول خرچی کی۔کھاتے ہیں جو پسند آیا باقی چھوڑ کے پھینک دیا۔جہاں تک پلیٹ میں کھانا ڈالنے کا تعلق ہے بچوں کو یہ نصیحت کرنی چاہئے اتنا ہی ڈالیں جتنا وہ ختم کر سکتے ہوں اور اس سے زیادہ نہ ڈالیں اور اگر زیادہ ڈال لیں تو پھر کھانا ہی پڑے گا ختم کرنا ہوگا اس کو۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت تھی جتنا پلیٹ میں ڈالتے تھے اس پلیٹ کو خالی کر دیا کرتے تھے اور اسی کی نصیحت فرماتے تھے۔تو اپنے سامنے کھانے کے برتنوں میں، پلیٹوں میں، اتناہی ڈالیں جوضرورت ہے اور پھر ضائع نہ کریں۔ضیاع کو اگر آپ ختم کر دیں اور یہ نیا نظام انگلستان میں لوگوں کو سکھا دیں تو انگلستان میں جو فضول خرچی ہوتی ہے، وہ جو بچت ہوگی اس سے بہت سے غریب ممالک کے پیٹ بھر سکتے ہیں۔یہ نہیں آپ لوگ سوچ سکتے اور انگلستان میں جو گندے پانی کی مصیبت ہے یہ بھی اسی فضول خرچی کی عادت کی وجہ سے ہے۔اب میں اپنے گھر کی بات بتا رہا ہوں غسل خانے کی بات مگر اتنی بتاؤں گا جو آپ کی بھلائی کے لئے بتانی ضروری ہے۔میں کبھی بھی شاور (Shower) کھول کر غافل نہیں ہوتا کہ چلتی رہے اب بیشک اور پھر نہاؤں اور جب تک میں فارغ نہ ہو جاؤں شاور کھلی رہے ہر دفعہ جب