خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 499 of 682

خطبات وقف جدید — Page 499

499 حضرت خلیفة المسیح الرابع سے استعمال کریں لیکن دنیا کو کان و کان خبر نہ ہو کہ اتنا عظیم الشان نسخہ میرے ہاتھ آگیا ہے۔میں ان کے نسخ رد کر دیا کرتا ہوں میں کہتا ہوں اللہ نے مجھے تم سے بہت بہتر نسخے عطا فرمائے ہیں جنھیں میں کھل کر دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہوں ، ذرہ بھر بھی کنجوسی نہیں ہے اور اس کے نتیجہ میں میر اعلم کم نہیں ہورہا ، بڑھ رہا ہے۔اور ایسے خدا کے بندے جو اپنے علوم کے نتیجے میں بعض راز پا جاتے ہیں وہ مجھے کھل کے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں بے شک اس کا اشتہار عام دیں۔یہ بنی نوع انسان کی ملکیت ہے۔مجھے ایسے احمدی چاہئیں اور انہی کا ذکر ماتا ہے اس حدیث نبوی میں کہ اپنی حکمت کو بے باک لوگوں کے لئے استعمال کر وہ کبھی کم نہیں ہو گی۔مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرًا وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ۔(البقرہ:246) یہ الحکم سے میں نے کچھ اقتباسات ایک دو لئے ہیں تا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے مضمون کو آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں سن لیں (رمضان کے روزے کے باعث منہ خشک ہونے کی وجہ سے بعض الفاظ کی صحیح طور پر ادا ئیگی میں دقت پیش آرہی تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ) منہ خشک ہونے کی وجہ سے یہ بولنے میں جو بعض دفعہ دقت ہوتی ہے یہ تو پہلے ہی ہمیشہ میں نے بتایا ہے ہوا کرتی تھی اور اپنے باپ اور بڑے بھائی سے میں نے یہی ورثہ پایا ہے۔لیکن اس کا نقصان کوئی نہیں ہے پہلے تو قہوے یا گرم پانی کے ذریعے ہونٹوں کو تر کر دیا جاتا تھا۔اب روزے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے اس لئے میں کوشش کر رہا ہوں آپ دعا کریں کہ کچھ ایسی دوائیں، جیسے حکمت کی باتیں میں کر رہا تھا خدا مجھے عطا فرمادے جن کے بعد آپ کو درس میں یا جمعہ پر خشک ہونٹوں کی تر باتیں سننے سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں مگر باتیں تر ہیں ان میں کہیں ذرہ بھی خشکی کے کوئی آثار آپ نہیں دیکھیں گے۔پس دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ اس رمضان کو بہتر سے بہتر حالت میں آگے بڑھاتا رہے اور مجھے اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے۔ایسا ہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزاء کے ساتھ واپس کروں گا۔یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس پر فضل کرنا چاہتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ طریق اختیار فرمایا ہے۔یعنی تمہیں آزماتا ہے ایسی آزمائش میں ڈالتا ہے جو تمہارے لئے بہت بابرکت ہے تم اپنے پیسوں کو جو دنیا میں پھینکتے پھرتے ہو کبھی وہ فائدے کے ساتھ واپس لوٹ آتے ہیں کبھی بلکہ اکثر جوسودخور ہیں ان کے تو ضرور نقصان میں جاتے ہیں۔لیکن عام تاجروں کے روپے فائدے کے ساتھ واپس آتے اور بڑھتے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں