خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 489 of 682

خطبات وقف جدید — Page 489

489 حضرت خلیفتہ المسیح الرابع جماعت ہے ، فیصل آبادان کو پیچھے چھوڑ جائے ، سیالکوٹ پیچھے چھوڑ جائے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔گوجرانوالہ ماشاء اللہ ہمت کر کے آگے آیا ہے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔گجرات چھٹے نمبر پر ہے اور سرگودھا ساتویں نمبر پر اور شیخو پورہ آٹھویں نمبر پر اور کوئٹہ نویں پر اور عمر کوٹ سندھ دسویں نمبر پر۔یہ جو اضلاع ہیں نچلے مرتبے کے اضلاع ہیں۔ان میں میں سمجھتا ہوں کہ ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔سیالکوٹ میں بھی ہے، فیصل آباد میں بھی ہے اسلام آباد میں تو ہے ہی ، گوجرانوالہ، گجرات وغیرہ یہ سارے وہ اضلاع ہیں جو میں نظری طور پر جانتا ہوں کہ جتنی خدا نے ان کو تعداد عطا کی ہے احمدیوں کی اور جو مالی توفیق بخشی ہے عین اس کے مطابق چندے دکھائی نہیں دے رہے۔دفتر اطفال میں لاہور خدا کے فضل سے اول آگیا ہے ربوہ دوم ہے اور کراچی سوم۔یہ تو ہے وقف جدید کی رپورٹ۔میں اس وقت ہندوستان کی جماعتوں کو جو اس وقت جلسے میں بطورِ خاص اس جمعہ میں حاضر ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ جمعہ تو بالخصوص ہمارے لئے وقف ہے ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ وقف جدید کے کام کو آپ وہاں بڑی تیزی سے بڑھائیں اور منظم کریں کیونکہ آپ کی اکثر تبلیغ اس وقت وقف جدید کے ذریعے ہو رہی ہے اور بہت سی پھیلتی ہوئی نئی ضرورتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید نے سنبھال رکھا ہے تو اس کو اہمیت دیں اور جن اضلاع میں آپ کی تبلیغ کے لحاظ سے کمزوری ہے انکی فہرست میں پڑھنا نہیں چاہتا اس وقت ان کی طرف متوجہ ہوں اور وقف جدید کے نظام کو جو بیرونی طاقت مل رہی ہے باہر سے ٹیکہ مل رہا ہے یہ کوشش کریں کہ آپ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر اس مدد سے متبرا ہو جائیں اس مدد کے محتاج نہ رہیں۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ قادیان ہی نے تو سب دنیا کو دینی ضرورتوں کے لحاظ سے پالا ہے ہندوستان ہی کو لمبے عرصے تک یہ فخر حاصل رہا ہے کہ جب باہر کی دنیا چندوں سے تقریب نا آشنا تھی تمام دنیا کی ضرورتیں ہندوستان پوری کرتا تھا۔پھر پاکستان نے ہجرت کے بعد یہ عظیم خدمت اپنے ہاتھوں میں لی، خوب سنبھالا ، خوب حق ادا کیا۔تو ہندوستان کے تعلق میں چونکہ پرانی غیر تیں ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہندوستان میں پیدا ہونا ہے، اس محبت کے تقاضے کے طور پر میری دلی خواہش یہی رہتی ہے کہ ہندوستان کو پھر وہ پرانی عظمتیں نصیب ہو جائیں۔تو اس پہلو سے وقف جدید بھی ایک ذریعہ بن گئی ہے ہندوستان کی پرانی کھوئی ہوئی عظمتوں کو واپس حاصل کرنے کا تو اس کی طرف آپ متوجہ ہوں اور اللہ تعالٰی توفیق عطا فرمائے کہ آپ کے اندر کثرت کے ساتھ وہ ولی پیدا ہو جائیں جن ولیوں کا حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کے تصور میں ذکر فرمایا ہے۔وقف جدید کا تعلق ولایت سے حضرت مصلح موعودؓ نے