خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 468 of 682

خطبات وقف جدید — Page 468

468 حضرت خلیفہ امسیح الرابع پیش کر رہی ہے ان میں جب وقف جدید کا اضافہ کیا گیا تو دوسرے چندوں میں کمی نہیں آئی یہ چندہ بڑھنا شروع ہو گیا۔یہ عجیب سی چیز ہے کہ جتنا مرضی بوجھ ڈال دو اور بوجھ ڈالوتو رفتار اور بھی تیز ہو جاتی ہے کم نہیں ہوتی کسی قیمت پر۔اور اگر بوجھ والی سواریاں ہیں تو جتنی سواریاں بعد میں داخل ہوتی ہیں وہ بھی تیز رفتار اسی طرح اسی شان کیساتھ آگے بڑھنے والی ہیں۔جس پہلو سے بھی دیکھو یہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی علامتیں ہیں اور یہ اس وقت تک زندہ رہیں گی جب تک آپ کے اندر روحانیت زندہ رہے گی ، جب تک آپ کے اندر خدا کا تعلق زندہ رہے گا جب تک آپ اپنے خرچ کو اس آیت کے اسلوب کے مطابق ڈھالیں گے جو ہمیں بتاتی ہے کہ تم نے پیار اور محبت کے نتیجے میں خدا کے حضور پیش کرنا ہے اور ڈرنا نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ تم پر ایسے فضل نازل فرمائے گا کہ تم خود اس کے نتیجے میں حیرت زدہ رہ جاؤ گے۔ہر سال جماعت کی مالی قربانیوں میں اضافہ جہاں ایک طرف اس بات پر گواہ ہے کہ جماعت احمد یہ اخلاص میں آگے بڑھ رہی ہے وہاں اس بات پر بھی گواہ ہے کہ خدا اپنے وعدے پورے کرتا چلا آ رہا ہے اور اتنی قربانیوں کے باوجود جماعت غریب نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے بڑھ کر امیر ہوگئی ہے۔اب اس پس منظر میں میں آپ کو وقف جدید کے بعض کوائف پڑھ کے سناتا ہوں۔وقف جدید کا آغاز تو 1957ء کے آخر میں ہوا غالبا دسمبر میں یا اس کے لگ بھگ حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی بنیاد ڈالی۔جو ابتدائی ممبر مقررفرمائے تھے ان میں اس عاجز کے نام کے علاوہ حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کا نام بھی تھا۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔حضرت مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب کا نام بھی تھا جن کا ابھی چند دن ہوئے وصال ہوا ہے اور آج انشاء اللہ انکی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے گی اور حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب کا نام بھی تھا۔حضرت ملک سیف الرحمن صاحب کا نام بھی تھا اور بھی ایک دو نام تھے تو کل سات ممبران تھے جن سے اس تحریک کا آغاز ہوا۔اور ابتدائی وعدہ مجھے یاد ہے اس سال کا شاید ستر بہتر ہزا ر وپے تھا اور پھر جو خدا تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ نے اسے ترقی عطا فرمانی شروع کی تو اب آج کے وقت تک پہنچتے پہنچتے بالکل کا یا پلٹ چکی ہے۔جو ابتدائی رقمیں تھیں وہ جو لاکھوں کی رقمیں تھیں کروڑوں میں بدل چکی ہیں جو ہزاروں کی تھیں لاکھوں میں اور لاکھوں کی کروڑوں میں بدل چکی ہیں اور دنیا کی وہ قومیں بھی اب اس قربانی میں شامل ہو گئی ہیں جن کو پہلے وقف جدید کی قربانی میں شامل نہیں کیا جا تا تھا یعنی یورپ اور دیگر مغربی اقوام یعنی یورپ کی اور امریکہ اور کینیڈ اوغیرہ کی اقوام۔تو اب میں مختصر آپ کے سامنے یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کس طرح محبت اور پیار سے جماعت احمد یہ وقف جدید کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کریں کہ 73 ممالک کی رپورٹس