خطبات وقف جدید — Page 465
465 حضرت خلیفة المسیح الرابع علوم کے پردے میں جو راز تھے ان کو دریافت کرنے والے لوگ ہیں اور اسکے نتیجے میں تمام دولتوں نے اپنے خزانوں کے دروازے ان پر کھول دیئے ہیں اور جو بے چاری قو میں حکمت سے عاری ہیں جاہل قو میں ہیں ان کو اموال بھی نصیب نہیں ہوئے ، جو تھا وہ بھی امیر قومیں لوٹ کر لے گئیں۔تو قرآنی تعلیم حکمت کے خزانوں سے بھری پڑی ہے۔فرمایا وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا جو بھی تم میں سے حکمت عطا کیا جائے گا اسے گویا بہت مال دولت نصیب ہواؤها يَذَّكَّرُ الَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ لیکن عقل والوں کے سوا سیکھتا کون ہے مصیبت تو یہ ہے۔اتنی باتیں کھول کر بیان ہوئی ہیں پھر بھی جب خرچ کے وقت آئیں گے تمہاری مٹھیاں بند ہی ہو جاتی ہیں جن کو کنجوسی کی عادت ہے، پھر تمہیں حوصلہ نہیں پڑے گا۔وَمَا يَذَّكَّرُ الَّا أُولُوا الأَلْبَابِ اہل عقل کے سوا کون ہے جو نصیحت پکڑتا ہے جوان نصیحت کی باتوں سے استفادہ کی طاقت رکھتا ہے۔یہ جو مضمون ہے آگے آئینوں میں بھی یہ چل رہا ہے لیکن میں آج صرف ان دو آیتوں پر اکتفا کرتے ہوئے وقف جدید کے سال نو کا اعلان کرنا چاہتا ہوں۔وقف جدید کا1995ء میں اڑتیسواں سال غروب ہو رہا ہے اور 96ء میں انتالیسواں سال طلوع ہو رہا ہے۔سال 94 سینتیسواں سال تھا، سال 95 ء اڑتیسواں اور اب جس سال میں ہم داخل ہو چکے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کا انتالیسواں سال ہے۔اور جماعت احمد یہ بحیثیت مجموعی جو خدا کی راہ میں خرچ کر رہی ہے اور جس انداز سے خرچ کر رہی ہے اس پہلو سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کی یہ ایک ایسی دلیل ہے جو سورج کی طرح روشن ہے۔دن کو سورج بن کر چمکتی ہے تو رات کو چاند بن کے نور برساتی ہے۔دن رات جماعت احمد یہ جو خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کر رہی ہے ان کے اندر ایسا نور ہے کہ اس کی مثال دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔کوئی ہے تو جماعت لا کے دکھائے۔ہم نے تو ایسے دیکھے ہیں جو دین کے نام پر جمعیتیں بھی بناتے ہیں ، خدمتیں بھی کرتے ہیں مگر اس وقت تک جب کوئی پیسہ عطا کرنے والا ہاتھ ان کو عطا کرتا رہے۔کسی حکومت نے امداد بند کر دی تو ان کی خدمتیں بھی و ہیں ختم ہو جاتی ہیں مگر وہ جماعت جو خدا کے نام پر بنی نوع انسان کی خدمت بھی کر رہی ہو اور مذہب کی خدمت بھی کر رہی ہو یعنی دینی وروحانی اقدار کی بھی۔ایک ہی ہے کل عالم میں جو جماعت احمد یہ ہے جو یہ سب کچھ کرتی ہے اور انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے کرتی ہے۔کوئی غیر ہاتھ اسکو عطا نہیں کر رہا ، ہاں اللہ کا ہاتھ ہے جو عطا فرماتا ہے۔اور یہ بات کہ خدا کی خاطر کرتے ہیں طیبات دیتے ہیں جو کمایا وہ خدا کی عطا سمجھتے ہوئے اسکے حضور عاجزانہ طور پر پیش کرتے ہیں اور اس میں لذت محسوس کرتے ہیں یہ اس طرح ثابت ہوتی ہے کہ ہر