خطبات وقف جدید — Page 464
464 حضرت خلیفہ مسیح الرابع حساب ہو کہ نیکیاں کتنی ہو ئیں اور بدیاں کتنی تو بھاری اکثریت انسان کی ایسی ہے جن کے بدیوں کے پلڑے بھاری ہونگے اور نیکیوں کے کم ہونگے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا ان دونوں کا گہرا تعلق ہے فرمایا مغفرت کے ذریعے تو ہم تمہارے بوجھ کم کر دیں گے جو بدیوں کے بوجھ ہیں وہ شمار میں نہیں لائیں گے اور فضل کے ذریعے نیکیوں کا پلڑا بھاری کر دیں گے۔پس دونوں طرف انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ عجیب طریقے سے پہنچے گا کہ گناہوں کا پلڑا تو ہلکا ہوتا چلا جارہا ہے اور نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوتا چلا جارہا ہے اور باقی سب چیزیں اس کے علاوہ ہیں جو پہلے نصیب ہو گئیں۔اور فضل کا دوسرا معنی ہے کہ اموال میں بھی برکت دے گا کیونکہ لفظ افضل قرآن کریم میں اموال کی برکت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔واضح طور پر جابجا اس کو دنیاوی نعمتوں کیلئے بھی استعمال فرمایا گیا ہے تو یہ دوہرا فائدہ بھی نکل آتا ہے کہ تمہارے اموال بڑھیں گے کم نہیں ہونگے۔شیطان جھوٹ بول رہا ہے فقر نہیں ہوگا اور شیطان فحشا کی طرف بلاتا ہے جس سے گناہوں کے پلڑے بھاری ہوتے چلے جائیں گے۔ہم مغفرت کی طرف بلا رہے ہیں جس سے تمہارے کئے ہوئے گناہ بھی کالعدم ہونے شروع ہو جائیں گے۔وہ فقر سے ڈراتا ہے، ہم فضل کے وعدے کرتے ہیں اور ہم اپنے وعدوں میں بچے ہیں ، شیطان اپنے وعدوں میں جھوٹا ہے۔اس صفائی اس لطافت کیسا تھ اس تفصیل سے دنیا کی کسی کتاب میں آپ کو انفاق کا مضمون دکھائی نہیں دے گا۔انفاق فی سبیل اللہ کا مضمون قرآن کریم میں مختلف جگہ بیان ہوا ہے ہر جگہ ایک عجب انفرادی حسن کے ساتھ بیان ہوا ہے جو دوسری باتوں کے علاوہ کچھ مزید حکمت کی باتیں اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ جو آیت میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اسکو دیکھیں اس کو غور سے پڑھیں غور سے سنیں اور سمجھیں تو کتنا حسین نظارہ ہے اس تعلیم کا۔دنیا کی کوئی تعلیم اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتی۔پھر فرماتا ہے يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ دیکھو خدا کیسی کیسی حکمتیں عطا فرمارہا ہے جس کو چاہتا ہے وہ حکمت عطا کر دیتا ہے۔اور فرمایا حکمت تو اموال سے بہت بہتر ہے۔اور حکمت ہی ہے جو دراصل اموال کے حصول کا موجب بن جایا کرتی ہے وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا اگر اموال کے بدلے صرف حکمت ہی کسی کو عطا کر دی جائے اسے بہت بڑا مال عطا ہو گیا۔اور اموال بھی بڑھائے جائیں اور پھر حکمت بھی بڑھا دی جائے تو بہت بڑی دولت ہے جو نصیب ہوگئی۔اور حکمت کی باتیں ہیں ساری جو آپ نے سنی ہیں اور حکمت کے متعلق ایک واضح حقیقت ہے جو آج کے زمانے میں خوب کھل گئی کہ جن کے پاس حکمت ہے وہ امیر ہیں ، جن کے پاس حکمت نہیں وہ غریب ہیں۔ساری قومیں جو آج دنیا کے اموال پر قابض ہوئی ہیں اپنی حکمت کے ذریعے قابض ہوئی ہیں ، انہوں نے اسرار علوم کو سیکھا ہے ، وہ