خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 457 of 682

خطبات وقف جدید — Page 457

457 حضرت خلیفہ المسیح الرابع کہنا کہ تمہارا پیسہ بڑھے گا اسلئے شامل ہو جاؤ اس کو یہی کہنا ہے کہ تم آنہ بھی دو گے تو جو تمہیں لطف آئے گا اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی وہ تو کروڑوں روپے بھی خرچ کر کے حاصل کی جائے تو کچھ بھی چیز نہیں اسلئے قربانی کے جذبے کی خاطر اس سے ایک آنہ بھی وصول کرنا ہو تو کریں اور نومبائعین کو کثرت کے ساتھ اس میں شامل کریں۔اب وقت ہے کہ نو مبائعین جس تعدا د سے بڑھ رہے ہیں اسی تعداد سے چندہ دہندگان بھی بڑھیں۔پس ان کو مستقل چندے میں بھی سولہویں حصے کی نسبت سے نہیں بلکہ حسب توفیق اور یہ مضمون بھی مَا اسْتَطَعْتُم سے مجھے ملا ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم تم اللہ کا تقویٰ اختیار کر جتنی استطاعت ہے تو نئے آنے والوں کی استطاعت کچھ کم ہوتی ہے۔بعض دفعہ بہت بڑھ جاتی ہے ایسے بھی آئے ہیں جنہوں نے آتے ہی فوراً قربانیوں میں حصہ لیا ہے اور انہوں نے کہا کہ ہم برابر کا حصہ لیں گے لیکن عموماً یہی دیکھا گیا ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ کیوں کہتا کہ تالیف قلب کی خاطر ان پر خرچ بھی کرو یعنی آغاز میں یہ حال ہوتا ہے بعض دفعہ آنے والوں کا کہ ان کی دلداری کے لئے کچھ نہ کچھ ان کی ضرورتیں اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کے لئے کئی وجوہات سے کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔جلسوں پر بلاتے ہیں تو کرایہ دے کر بلاتے ہیں پھر وہ وقت آتا ہے کہ وہ چندے لے کر اپنے خرچ پر چندے دینے کیلئے آتے ہیں مگر آغاز میں کچھ قربانی لازم ہے اگر بغیر قربانی کے اسی حال پہ وہ ٹھنڈے ہو گئے تو پھر آپ کیلئے ان کو قربانی کے مزے دینا مشکل ہو جائے گا ان کو پتہ ہی نہیں ہو گا کہ قربانی کا مزہ ہے کیا۔پس ان کو بھی وقف جدید میں شامل کریں۔اس ضمن میں میں یورپ کی جماعتوں اور مغرب کی جماعتوں سے خصوصاً یہ درخواست کرتا ہوں کہ ہر ماں باپ اپنی اولاد پر نظر رکھیں اور جہاں وہ کمانے والے بنیں ان کو یہ تحریک کریں کہ پہلے ہفتے کی آمد وہ مسجدوں میں دیں اور یہ نیک روایت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے قائم ہے اور جہاں تک میرے سے مشوروں کا تعلق ہے میں ہر ایک کو یہی بتا تا ہوں وہ کہتے ہیں ہمیں خدا نے برکت دی ہے کیا کریں۔میں کہتا ہوں پہلے تو پہلے ہفتے کی آمد مسجد کیلئے دے دو۔دوسرے فوری طور پر چندہ با قاعدہ دینا شروع کر دو۔سولہویں حصے کا حساب کر کے اگر زیادہ کی توفیق نہیں تو یہ ضرور دو۔تو اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے تمہاری اولا د بھی فتنہ ہے تو یہ بھی ایک فتنے کا موقع ہوتا ہے۔اولا دخوشحال ہوگئی ہے ماں باپ سمجھتے ہیں ان کو کیوں چندوں میں ڈالیں خواہ مخواہ ہم جو دے رہے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بھی ہار گئے آپ کا دیا ہوا بھی گیا اگر چندے کا شوق ہی نہیں اور سمجھتے ہی نہیں کہ باعث سعادت ہے تو اولاد کو بھی آپ نہیں کریں گئے اور آپ کے چندے کے اوپر بھی ایک اور روشنی پڑ جائے گی جو ایک تلد روشنی ہو گی یعنی آپ پہلے دیتے