خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 456 of 682

خطبات وقف جدید — Page 456

456 حضرت خلیفہ امسیح الرابع جہاں تک دوسری جماعتوں کا تعلق ہے جو عموماً چھوٹی تھیں اور پیچھے رہ رہی تھیں ان میں اس طرح موازنہ میں نے کیا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابل پر غیر معمولی اضافہ پیش کرنے کی کس کو تو فیق ملی ہے کیونکہ عام دوڑ میں تو شامل نہیں ہو سکتی تھیں اس لحاظ سے گی آنا کی جماعت اول آئی ہے اور انہوں نے اس ایک سال میں چندہ دگنے سے بھی کچھ زیادہ کر دیا ہے۔بنگلہ دیش نے بہت آگے قدم بڑھایا ہے انہوں نے بھی گیارہ سو کی بجائے دو ہزار تریسٹھ۔معاف کرنا یہ چندے کی بات نہیں ہو رہی۔چندہ دہندگان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ۔میں نے عنوان نہیں پڑھا تھا اسلئے جب میں نے یہ پڑھا تو میں نے کہا گیارہ سو کیسے ہو سکتا ہے بنگلہ دیش کا بہت زیادہ چندہ ہو گا اس سے۔تو جب عنوان دیکھا ہے تو عنوان یہ ہے۔” چندہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ اور اس پہلو سے گی آنا اضافے کی نسبت سے اول آ گیا ہے اور بنگلہ دیش کو دوئم قرار دیا ہے گیارہ سو کے بدلے میں دو ہزار تریسٹھ ہے، دگنے سے کم ہے اور گی آنا دُگنے سے ذرا زیادہ ہے۔ہالینڈ تیسرے نمبر پر ہے۔ایک سوستر افراد سے بڑھ کر دوسو انچاس ہو گئے۔کینیڈا چوتھے نمبر پر ہے۔تین ہزار پینتالیس مجاہدین سے تعداد بڑھ کر چار ہزار چارسو اکتیس ہوگئی اور جرمنی پانچویں نمبر پر ہے۔پانچ ہزار چھ سو تینتیس سے بڑھ کر آٹھ ہزار ایک سو چورانوے کی تعداد پہنچ گئی ہے۔یہ جو تعداد کا مسئلہ ہے اس کا تعلق مال سے اتنا نہیں ہے جتنا قربانی کی روح کو فروغ دینے کے لئے ہم اس پر زور دیتے ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ بعض دفعہ جب زیادہ تعداد بڑھائی جائے تو اس تعداد کے حساب میں بعض دفعہ خرچ زیادہ ہوتا ہے اور اس سے آمد کم ہوتی ہے۔مثلاً ایک پورا انتظام کیا جائے انکا حساب رکھا جائے کلرک رکھے جائیں پھر ڈاک کے ذریعے ان کے حساب بھیجے جائیں اور چندے بعض دفعہ اتنے تھوڑے تھوڑے ہوتے ہیں بعض غریبوں کے کہ مالی حساب پر زیادہ خرچ ہو رہا ہوتا ہے ان کی آمد کے مقابل پر۔لیکن ہمیں ضرورت ہے اخلاص کی اور مالی قربانی کے بغیر اخلاص بڑھتا نہیں ہے اور مالی قربانی کو اللہ نے تقویٰ کا ایک پیمانہ قرار دیا ہے اور پھر لمبا تجر بہ بتاتا ہے کہ شروع میں جو ایک پیسہ بھی قربانی کرتا ہے خدا تعالیٰ اسکو دو طرح سے بڑھاتا ہے۔يُضعفہ کا مطلب یہ صرف نہیں ہے کہ مال اس کا بڑھاتا ہے۔اس کے دل کی وسعتیں بڑھا دیتا ہے قربانی کے جذبے بڑھا دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام جماعت میں ایک نئی ترقی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔پس اس دفعہ بھی میں تمام دنیا کی جماعتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ کتنا ہی معمولی چندہ کیوں نہ ہوئیں پچھلے سال بھی اعلان کر چکا ہوں کہ یہ شرط چھوڑ دیں کہ چھ روپے کم سے کم یا بارہ روپے کم سے کم یا اس کے لگ بھگ دوسری کرنسیوں میں رقم ہوا اگر کوئی ایک آنہ بھی دے سکتا ہو تو اسکو کہیں شامل ہو جائے۔اس کا شامل ہونا اس کی مالی دقتوں کا حل ہے اور اس کو یہ نہیں