خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 452 of 682

خطبات وقف جدید — Page 452

452 حضرت خلیفہ المسح الرابع نظر ہوتا بلکہ اکثر اوقات رہتا ہے اس کے باوجود دیتے ہیں۔یہ جو دینا ہے یہ غیر معمولی اعلیٰ نیت کے سوا، پاک نیت کے سوا ممکن ہی نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرض تو دینا ہے تم نے ، یہ تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کی خدا کو ضرورت ہے۔ضرورت کا تصور مٹانے کیلئے لفظ قرض استعمال فرما دیا۔کیونکہ قرض لینا کسی کی عظمت اور اسکی بڑائی کے خلاف نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی سے مد نہیں مانگی مگر قرضے لئے۔وقتی طور پر ایک ضرورت پیش آسکتی ہے تو یہ تو نہیں کہ خدا کو ضرورت ہے مگر قرض کا مفہوم دے کر یہ بتایا کہ تم کوئی احسان نہیں کر رہے اپنی جماعت پر یا خدا کا تصور براہ راست اگر نہ داخل کریں تو یہ مضمون بنے گا کہ جماعت مسلمہ پر تم کوئی احسان نہیں کر رہے یہ تو ضرور واپس ہوگا جو اصل ہے اور جہاں تک خدا کے کاموں کا تعلق ہے وہ بڑھایا کرتا ہے مگر بڑھا تا ان کے ہے جن کی نیتیں پاک ہوں جو جذبہ محبت سے خرچ کریں اور قربانی کی روح سے خرچ کریں۔پس ایسے لوگ جو اپنے غریب بھائیوں کو قرضہ دیتے ہیں اور اس نیت سے دیتے ہیں کہ ان کی بھلائی ہو اگر ہمیں کچھ نگی پڑتی بھی ہے تو کوئی حرج نہیں ان کا جو جذبہ ہے وہ بہت ہی قابل قدر بن جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو بہت ہی قدردان ہوں اس جذبے سے اگر تم قرض دو گے لالچ کی وجہ سے نہیں کرو گے تو پھر میرا دستور یہ ہے۔یہ نہیں فرمایا میں وعدہ کرتا ہوں ، فرمایا اللہ ایسا کرتا ہے اور کرے گا اور اس شرط کے ساتھ کرے گا يُضعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ تمہارے لئے بڑھائے گا بھی اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ تمہاری بخشش کے سامان کرے گا۔اب اگر مالی قربانی ایسی ہو کہ اس سے برکت بھی پڑے اور یقین ہو کہ مغفرت ہوگی تو یہ ایک بہت ہی پاکیزہ اور ہر سودے سے اچھا سودا ہے جس خرچ کے نتیجے میں مغفرت ہو جائے وہ اس لئے ضروری ہے کہ انگلی دنیا کے متعلق اللہ فرماتا ہے کہ وہاں کوئی پیسہ کام نہیں آئے گا وہاں مغفرت کا خرچ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا۔تو ہمارے دن کتنے ہیں جن میں خدا تعالیٰ سے مغفرت کے سودے کی خاطر اپنا مال خرچ کریں۔موت کا کوئی وقت مقرر نہیں اور ایک دفعہ مر گئے تو سارا مال یہیں دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے اور پھر اس دنیا میں کام ہی نہیں آسکتا۔تو مغفرت کا تعلق تو ہر شخص کے ساتھ ہے اور مغفرت کی خاطر خرچ کرنا یہ لالچ، حرص نہیں ہے۔یہ ایک ایسی طبعی ضرورت ہے جو ہر انسان کو لاحق ہے ہر انسان سے وابستہ ہے۔تو حرص کا جہاں تک تعلق ہے ، کوئی غرض کا تعلق ہے اللہ نے فرما دیا کہ مغفرت کی حرص رکھا کرو، یہ سوچا کرو کہ میں اللہ کی خاطر خرچ کرتا ہوں بڑھے یا نہ بڑھے میری بخشش کا سامان ہو جائے اور خداوعدہ فرماتا ہے کہ بخشش کا سامان تو ہوگا لیکن اس سے پہلے میں تمہارے مال بھی بڑھا چکا ہوں گا۔کتنا عجیب سودا ہے، يُضعِفَهُ لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ تم مغفرت کی خاطر کرتے ہو خدا اتنا حسن ہے