خطبات وقف جدید

by Other Authors

Page 451 of 682

خطبات وقف جدید — Page 451

451 حضرت خلیفہ مسیح الرابع کی توفیق نہیں پاتے لیکن ہر دفعہ جب دروازہ کھٹکتا ہے تو ان کے دل کو تکلیف ہوتی ہے کہ ہم رہ گئے اور وہ اپنے نفس کیلئے بہانہ بناتے ہیں۔یہ تو غلط راستوں پر چل پڑی ہے جماعت اسلئے ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے ہم اس راہ میں خرچ کریں۔مگر خدا تعالیٰ نے تو ہر بات کا جواب دے رکھا ہے ہر نفسیاتی پہلو کو چھیڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس کا تجزیہ فرماتا ہے کہ اس کے ہر پہلو سے اٹھنے والے سوالات کو اٹھائے بغیر بھی ان کے جواب دیتا چلا جاتا ہے وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ جو نفس کی خساست سے بچایا جائے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہوا کرتے ہیں۔اِنْ تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرضہ حسنہ دو يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُم وہ اسے تمہارے لئے بڑھائے گا اور تمہاری بخشش فرمائے گا۔یہاں قرضہ حسنہ کی کیا بحث ہے؟ سوال یہ ہے کہ قرض خالی بھی تو کہا جا سکتا ہے لیکن قرضہ حسنہ کی اصطلاح خدا کو قرض دینے کے سلسلے میں کیوں استعمال فرمائی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جب بھی کوئی انسان اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو بسا اوقات دنیا میں اسکے مال بڑھا دیتا ہے اور بڑھا تا تو ہمیشہ ہے لیکن کبھی جلدی کبھی دیر کے بعد۔بعض لوگوں سے یہ سلوک ہوتا ہے کہ وہ ادھر دیا ادھر مال میں برکت پڑگئی ادھر دیا ادھر ایک چٹھی آگئی کہ تمہارا اتناروپیہ پڑا ہوا تھا۔تو اس سے یہ حرص پیدا ہوسکتی ہے کہ چندہ دیتے وقت انسان بڑھانے کے خیال کو دل میں جمادے کہ اب میں نے چندہ دینا ہے ضرور بڑھے گا تو اللہ فرماتا ہے کہ دیتے وقت اپنی نیتوں کو صاف رکھا کرو، اسمیں بڑھانے کا تصور نہ رکھا کرو۔خدا کی خاطر قربانی اسکی رضا کی خاطر خرچ کیا کرو۔یہ قرضہ حسنہ ہے اور جہاں تک اللہ کا تعلق ہے وہ تو بڑھاتا ہے ہی۔تم قرضہ حسنہ دو گے تو وہ کون سا اتنا ہی تمہیں واپس کرے گا۔خدا کی سنت یہ ہے - يُضْعِفُهُ لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُم تم قرضہ حسنہ دو گے تو بڑھائے گا اور تمہارے لئے بخشش کا سامان کرے گا۔اب اس میں ایک عجیب لطیف شرط داخل فرما دی یعنی بڑھانے کا وعدہ ان سے ہے جو قرضہ حسنہ دیں گے۔جو حرص میں دیں گے انکے ساتھ وہ وعدہ نہیں ہے بڑھا دے تو اس کی مرضی ہے مالک ہے لیکن یا درکھنا جو برکت والا وعدہ ہے کہ خدا تم پر فضل فرمائے گا اور بڑھائے گا وہ اسی صورت میں ہے کہ تمہارے دل میں حرص نہ ہو بلکہ اللہ کی محبت اور اسکی رضا کی خاطر قربانی ہو اور یہ قرضہ حسنہ ہے۔قرضہ حسنہ میں قرض کا مفہوم بھی داخل فرما دیا اور یہ عجیب بات ہے قرض کے دو ہی پہلو ہیں ایک وہ قرض ہے جس میں آپ ضرور کچھ نہ کچھ حرص رکھتے ہیں اور حرص کی وجہ سے بہت سے لوگ قرض دیتے اور بہت سے لوگوں کے قرض ضائع بھی چلے جاتے ہیں اور ایک وہ پہلو ہے کہ کوئی حرص نہیں بلکہ بعض دفعہ نقصان کا خطرہ ضرور پیش