خطبات وقف جدید — Page 450
450 حضرت خلیفہ امسیح الرابع اللہ کی راہ میں کرو تمہارے نفسوں کیلئے بہتر ہے اور بعض دفعہ کسی کو خیال آتا ہوگا کہ یہ تو گرائمر کے لحاظ سے ٹھیک نہیں بنتی بات۔کیونکہ انفِقُوا كا خَيْرًا اگر مفعول به ہو تو انفِقُوا خَيْرًا کا مطلب ہے مال خرچ کرو اور کس کیلئے خرچ کر واپنے نفسوں کیلئے۔اپنے نفسوں پر مال خرچ کرو یہ بن جائے گا ترجمہ۔میرے ذہن میںا س کے دو تین مختلف معانی تھے جو آج میں نے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے کہا کہ جو اہل علم کی پرانی کتا میں ہیں ”سیبویہ وغیرہ ان کو نکالیں اور مجھے یقین ہے کہ بالکل درست ثابت ہوں گے اور وہی ہوا۔ہر بات جو امکا ن سوچی تھی ان کے معنوں کی وہ تمام باتیں پرانے مفسرین اور اہل علم کی کتابوں سے نکل آئی ہیں اس کو مختلف معنی دے کر پہلوں کا بھی رجحان اسی طرف گیا تھا کہ اس کا یہ ترجمہ اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ ”مال خرچ کرو اپنے لئے۔اس کا یہ ترجمہ اچھا لگتا ہے کہ خرچ کر و خیرًا لَّا نُفُسِكُم جس میں وہ ایک فعل محذوف مانتے ہیں کہ یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اور گان کی خبر منصوب آتی ہے۔اس میں جوڑ برسی دکھائی دیتی ہے وہ نصب ہے اور یہ گان کی خبر ہوتی ہے چنانچہ اس فعل کی مختلف شکلوں میں محذوف مانا گیا اور بعضوں نے یہ ترکیب کی کہ کوئی اور فعل ہے جیسے ضرور خرچ کر اسی قسم کا معنی کوئی بیچ میں یا انفقوا انفاقا یعنی خرچ کرنا جو ہے یہ مفعول بن جائے گا اور خَيْرًا لا نُفُسِكُم یہ اس کا بدل ہو جائے گا۔بدل کا بھی ترجمہ کیا گیا۔مفعول لہ بھی ترجمہ کیا گیا۔مفعول لاجلہ۔تو یہ سارے ترجمے پرانے مختلف بزرگوں نے اسی غرض سے کئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس آیت کا منطوق یہ ہے۔آیت کا منطوق یعنی اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر تم خرچ کرو گے تو یہ خرچ تمہارے اپنے نفسوں کیلئے بہتر ہوگا اس لئے یہ دور کا واہمہ بھی نہ آئے دماغ میں کہ خدا پر کوئی احسان کر رہے ہو۔اس کا انجام تمہارے لئے بہتر ہے یہ تمام کا تمام فائدہ جو اس خرچ کے ساتھ وابستہ ہے خود تمہیں یعنی تمہاری سوسائٹی کو بھی پہنچے گا تمہارے اپنے نفسوں کو بھی تمہارے اپنے خاندانوں کو بھی پہنچے گا یہ مراد ہے۔وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ جو شخص اپنے نفس کی بد بختی ، کنجوسی سے بچایا جائے ،جس کو اللہ تعالیٰ نفس کی خساست سے بچالے فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ ہوتے ہیں جو کامیاب ہوا کرتے ہیں۔جن کے نفس خسیس ہوں ان کا علاج کوئی نہیں ہوتا اور انہوں نے کہاں نصیحت کے نتیجے میں خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے ان کے دل مٹھی ہو جاتے ہیں اور تکلیف پہنچتی ہے اور پھر وہی لوگ یہ آواز اٹھاتے ہیں کہ عجیب آپ کی دنیا دار جماعت بن رہی ہے ہر وقت پیسوں کی باتیں ہو رہی ہیں کوئی کہتا ہے اتنی قسمیں ہوگئی ہیں چندوں کی ، یہ چندہ ، وہ چندہ مگر اعتراض کرنے والے الا ماشاء اللہ بعض ہیں جو اپنی ذہنی ساخت کے لحاظ سے یہ باتیں سوچتے ہیں لیکن قربانیوں میں آگے ہوتے ہیں۔اکثر وہ ہیں جو قر بانیوں