خطبات وقف جدید — Page 439
439 حضرت خلیفة المسیح الرابع وہ لفظ از خود ذہن میں ابھرتا ہے۔ایک لفظ کے معنی کے جتنے بھی امکان ہیں وہ معنی کے سائے سمجھ لیں تو ایک لفظ میں جتنے بھی معانی کے سائے پائے جاتے ہیں وہ بچہ جس نے بغیر کسی مدد کے زبان سیکھی ہو لفظ کے ہر شیڈ کو ہر سائے کو براہ راست سیکھا ہو تو جہاں بھی وہ اس سائے کو دیکھتا ہے سایہ سامنے آتے ہی وہ لفظ از خود اس کے ذہن میں ابھرتا ہے، یہ جو کیفیت ہے اس کو اہلِ زبان ہونا کہتے ہیں۔ہماری زبان کا ماحول اس سے ذہن میں جذب ہو جاتا ہے اور کسی اور زبان کی مدد سے ذہن میں ترجمہ نہیں کرنا پڑتا ورنہ میں جب آپ سے فرنچ یا کریول زبان میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں تو میں پہلے انگریزی سے فریج میں ترجمہ کرتا ہوں اور پھر اس کو یاد کر کے آپ کے سامنے رکھتا ہوں یہ بڑی مصیبت ہے اس طرح زبان سیکھتے اور سکھاتے ہوئے کتنی دیر لگے گی۔جو زبان کا طریق اب ہم نے اللہ کے فضل سے ایجاد کیا ہے وہ بغیر کسی زبان کے سہارے کے ہوگا۔اس ضمن میں ہمارے ایک مخلص دوست ڈاکٹر شمیم صاحب کو کچھ عرصہ پہلے بلا کر میں نے تفصیل سے یہ سکھایا تھا اور اب وہ خدا کے فضل سے خوب سمجھ چکے ہیں اور اس کے علاوہ انھوں نے چونکہ ذہن بہت ہی سائنٹفک پایا ہے اس موضوع پر بہت سی کتابیں بھی پڑھ لی ہیں اور بہت سے ماہرین سے انٹر ویوز بھی لے لئے ہیں ان کو جس جس چیز کی ضرورت تھی وہ مہیا کر دی گئی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جو نہی وہ تیار ہونگے تمام دنیا میں جو مختلف اہلِ زبان ہیں وہ ان تصویروں کو دیکھ کر اپنے لفظوں میں اس مضمون کو بھریں گے اور تصویر ایک ہی ہوگی۔اس طرح اگر سوز با نہیں سکھائیں تو سو سکھا سکتے ہیں۔رفتہ رفتہ یورپ کے چینل پر تو ایک وقت میں آٹھ زبانیں سکھائی جارہی ہونگی اور آئندہ مارچ سے انشاء اللہ تعالیٰ ایشیا کے ٹیلی ویژن پر بھی بیک وقت آٹھ زبا نہیں سکھائی جاسکتی ہونگی۔نہ صرف چھوٹے بلکہ بڑے بھی بے تکلف زبانیں سیکھیں گے اور دنیا کے سامنے ایک نئی مثبت طرز کے ٹیلی ویژن کا آغاز ہوگا جہاں بے حیائی کی باتیں نہ سکھائی جا رہی ہوگی ، میوزک کے ذریعے اخلاق کو خراب کرنے کی باتیں نہیں ہو رہی ہونگی ، یہ بہت ہی نفیس اور پاکیزہ پروگرام ہونگے جو ایسے ہونگے کہ انسانی ذہن اور دل کو جذب کرنے والے ہونگے اور وہ اب دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔اس ضمن میں میں دوسرے پروگراموں کا بھی ذکر کر دوں۔ایک معلوماتی پروگرام ہم نے بچوں کے لئے رکھا،صرف بچوں کے لئے نہیں بلکہ بڑے بھی اس میں شامل ہونگے۔تمام دنیا کے ممالک کے متعلق با قاعده پروفیشنل طریق پر بنی ہوئی ویڈیو ملاتی ہیں، ان ملکوں کے جغرافیائی حالات ، ان کی تاریخ کے حالات، ان کے کلچر کے حالات وغیرہ وغیرہ یہ پیش کئے جاتے ہیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ مغربی دنیا کے لوگ کوئی بات بھی پڑھانا چاہتے ہوں ان سے ناچ گانے کے بغیر پڑھائی نہیں جاتی اور وہ ہم شامل نہیں کرنا