خطبات وقف جدید — Page 440
440 حضرت خلیفۃ المسیح الرابع چاہتے اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ اکثر پروگرام جہاں تک ممکن ہو ہم خود بنائیں گے اس کے لئے تمام دنیا کی جماعتوں کو ہدایت دی جاچکی ہے اور وہ تیاری کر رہے ہیں۔پھر میوزک کے بغیر خوش الحانی سے نظمیں اور دوسرے گانے سنانے کے لئے اور بعض بچوں کو سکھانے کے لئے ہم نے ایسا پروگرام بنایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عربی، فارسی ، اردو قصائد اور ان کے ترجمے مختلف زبانوں میں ترنم کے ساتھ پیش کئے جائیں۔بچے کورس پیش کریں اور بڑے مل کر وہ گانے گائیں اور ساری دنیا میں خدا کی حمد کے گیت گائے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام پورا ہو کہ : آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گایا ہم نے ہم درود شریف بھی ترنم کے ساتھ پڑھا کریں گے اور اس کے معنی بھی دنیا کو سکھائیں گے۔قرآن کریم کی تلاوت کے علاوہ یہ وہ زائد چیزیں ہیں جن میں پاک حمد اور نعت کے گانے اور مختلف زبانوں میں مختلف ملکوں میں بنائی جانے والی نئی نظمیں بھی شامل کی جائیں گی اس لحاظ سے بھی یہ بہت دلچسپ پروگرام ہوگا۔پھر کھیلوں کا معاملہ ہے ہم چاہتے ہیں کہ تمام دنیا کے احمدی بہترین طریق پر کھیلوں کی تربیت حاصل کریں کیونکہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ الْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الادْيَانِ وَعِلْمُ الأبدان علم تو دوہی ہیں ایک دین کا علم ہے اور دوسرا جسموں کا علم ہے جسموں کے علم میں ساری دنیا کی سائنس آجاتی ہے۔انسانی بدن کا علم بھی اور انسانی صحت کو قائم رکھنا اور اس کو آگے بڑھانے کا علم بھی۔کھیلوں کا علم بھی علم الا بدان میں شامل ہے۔پس کھیلوں کے اعتبار سے مشرق بہت پیچھے ہے اور کوئی ان کو سکھاتا نہیں ہے کہ کیسے کھیلوں میں آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ہم انشاء اللہ یہ انتظام کر رہے ہیں کہ اگر فٹ بال سکھانا ہے تو فٹ بال کے بہترین ماہرین فٹ بال سکھائیں اور احمدی بچے ان سے ٹریننگ حاصل کریں اور انکی ویڈیو دکھائی جائے اور پھر بار بار یہ پروگرام دکھائے جائیں تا کہ لوگوں کو پتہ لگے کہ فٹ بال ہوتا کیا ہے۔کس طرح کھیلنا چاہئے کیا کیا احتیاطیں ہیں جو برتنی چاہئیں۔کیا داؤ پیچ ہیں جو استعمال ہوتے ہیں۔پھر تیرا کی کا مقابلہ ہے اس کے متعلق بھی ہم ان لوگوں سے بہت پیچھے ہیں بلکہ سالوں پیچھے ہیں بلکہ شاید پوری صدی پیچھے ہوں۔اتنا پیچھے ہیں کہ جو ابتدائی معیار ہوتے ہیں ان کے ٹیسٹ Test پر بھی ہم پورا نہیں اترتے پس بڑی ضرورت ہے کہ اپنی غیرت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ان سب قسم کی کھیلوں کو جو اولمپک میں شامل ہیں اور جن میں مقابلے کئے جاتے ہیں ہم تمام دنیا کے احمدیوں اور دوسروں کو بھی جو جماعت سے فیض حاصل کرنا چاہیں سکھانا شروع کریں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا انشاء اللہ تعالیٰ